بھارت میں دریائے گنگا میں کشتی میں افطار کرنے پر 14 نوجوان گرفتار، مقدمہ درج
بھارت میں مسلمانوں کی گرفتاریاں
وارانسی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کے شہر وارانسی میں کشتی میں افطار کرنے پر 14 مسلمان نوجوانوں کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے.
یہ بھی پڑھیں: آئندہ مالی سال کا وفاقی ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب روپے رکھنے کی تجویز
واقعہ کا پس منظر
رپورٹس کے مطابق نوجوان دریائے گنگا میں افطار کر رہے تھے کہ ایک بی جے پی یوتھ لیڈر نے شکایت کر دی اور مسلم نوجوانوں پر مقدمہ درج کر لیا گيا.
یہ بھی پڑھیں: چینی کے سٹے بازوں اور ذخیرہ اندوزوں کیخلاف سخت کارروائی کا فیصلہ
الزامات اور نتائج
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق نوجوانوں پر الزام تھا کہ کشتی پر ہونے والی افطار میں چکن بریانی کھائی گئی اور بچا ہوا کھانا مبینہ طور پر دریا میں پھینک دیا گیا، جس سے ‘‘مذہبی جذبات مجروح’’ ہوئے، اس کے باعث سب کو گرفتار کر لیا گیا.
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے خریدنے والے کو نئے جہاز کی خریداری پر سیلز ٹیکس ادا نہیں کرنا ہوگا، سیکریٹری نجکاری کمیشن
نکتۂ نظر اور حساسیت
ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں، کیا جذبات صرف اسی وقت مجروح ہوتے ہیں جب مسلمان اپنی عبادت کریں؟
مذہبی آزادی اور انتہا پسندی
یہ واقعہ بھارت میں مذہبی آزادی اور بڑھتی ہوئی انتہا پسندی پر ایک بار پھر بڑا سوالیہ نشان بن گیا.







