ثنا یوسف قتل کیس، مقتولہ کے والد نے بیان ریکارڈ کروا دیا
اسلام آباد میں ثناء یوسف کے قتل کا مقدمہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر ثناء یوسف قتل کیس میں مقتولہ کے والد نے عدالت میں بیان ریکارڈ کروایا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے بڑے دریاؤں میں پانی کی آمد میں کمی ریکارڈ
عدالتی سماعت
روزنامہ جنگ کے مطابق، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر ثناء یوسف کے قتل کیس کی سماعت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹرتاج حیدرکے انتقال پر سینیٹ کی سیٹ پر ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری
مقتولہ کے والد کا بیان
مقتولہ کے والد نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ اہلیہ، بیٹے اور بیٹی ثناء یوسف کے ساتھ سیکٹر جی 13 میں رہائش پزیر تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اُن کی بیٹی ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کا 811 ارب روپے کا تعلیمی بجٹ طلباء کی زندگی میں بہتری لائے گا، وزیر تعلیم
واقعہ کی تفصیلات
انہوں نے مزید بتایا کہ وقوعے کے دن وہ کام کی وجہ سے گھر سے باہر گئے تھے۔ شام کو اُن کی اہلیہ نے فون پر بتایا کہ ایک نامعلوم شخص نے بیٹی کو گولی مار دی ہے۔ بیٹی کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں طبی عملے نے بتایا کہ اس کی موت ہو چکی ہے۔
پولیس کو بیان ریکارڈ کروانا
ثناء کے والد کا کہنا ہے کہ بیٹی کی ڈیڈ باڈی پمز منتقل کی گئی، جس کے بعد انہوں نے پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔ بیٹی کے موبائل فون بھی پولیس کے حوالے کیے، اور پولیس نے جائے وقوع کی رپورٹ بھی بنائی۔








