صحافی اکبر باجوہ نے پنجاب حکومت کے جہاز کے استعمال پر دفاع کرنے والے دانشوروں، تجزیہ کاروں کو آڑے ہاتھوں لے لیا
اکبر باجوہ کا پنجاب حکومت کے جہاز کے استعمال پر تنقید
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) یوٹیوبر اور صحافی اکبر باجوہ نے پنجاب حکومت کے جہاز کے استعمال کی حمایت کرنے والے دانشوروں اور تجزیہ کاروں پر سخت تنقید کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کا رہنے والا عارف طفیل المعروف “میجر” کمال انسان تھا، جس بات کو ہاں کہہ دی کوئی نہ نہیں کرا سکتا تھا اور اگر نہ کر دی تو کوئی ہاں نہیں کرا سکتا تھا۔
دانشوروں کی بدمعاشی
اپنے ایک ولاگ میں اکبر باجوہ نے کہا کہ اس معاملے پر ہمارے دانشور کیا کر رہے ہیں؟ وہ بدمعاش بنے ہوئے ہیں، ڈرا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جہاز پر سوال اٹھانے والوں کے خلاف کارروائی کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ہماری برادری کے افراد ہیں، پہلے دن ہی بتا دینا چاہیے تھا کہ جہاز خریدا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوٹو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ۔۔۔ ایک اور لوٹ مار کی کہانی
معاشی حالات کی نظر میں جہاز کی خریداری
اکبر باجوہ نے نشاندہی کی کہ ملک میں 42 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ بیروزگاری 21 سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی اچھی آمدنی بھی کرتا ہو تو اس کی نسلوں کو 13 ارب روپے کمانے میں وقت لگے گا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ
منیب فاروق کے ساتھ واقعہ
اکبر باجوہ نے منیب فاروق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی صحت کے معاملے پر نوجوانوں نے سڑک بلاک کی۔ منیب فاروق نے ٹویٹ کیا کہ یہ معاملہ ٹھیک نہیں ہوگا، جس کے بعد ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
یہ بھی پڑھیں: 190 ملین پاؤنڈ کیس؛ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستیں کل سماعت کے لیے مقرر
جہاز کے معاملے کی غلطی
انہوں نے سوال اٹھایا کہ دانشور یہ کیوں نہیں پوچھ رہے کہ جنید صفدر ہنی مون کے لیے ملک سے باہر کیوں گئے؟ کیا یہ سچ ہے کہ جہاز آسٹریا کے وی آئی پی لاؤنج میں کھڑا رہا؟ اس معاملے کی مناسب طریقے سے وضاحت کیوں نہیں کی گئی؟
یہ بھی پڑھیں: سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے محفوظ جگہ جانے سے انکار کیا، ایرانی سپریم لیڈر کے بھارت میں نمائندے ڈاکٹر عبدالماجد حکیم الٰہی کی میڈیا سے گفتگو
عوامی احساسات کا مسئلہ
اکبر باجوہ نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ غربت کی حالت میں عوام کے لیے 11 یا 13 ارب کا جہاز خریدنا کیا درست ہے؟ 86 کروڑ روپے اس کی دیکھ بھال کے لیے جاری کیے گئے، پھر جہاز غائب ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: اٹک کی مقامی تنظیم کو مکمل طور پر تحلیل کر دیا
ماضی کی مثالیں
اکبر باجوہ نے کہا کہ یہ خواجہ آصف کی بات ہو گئی کہ لوگ بھول جائیں گے جیسا کہ پاناما کیس میں ہوا تھا۔
ٹویٹر پر بحث
جنید صفدر کے ہنی مون کے لیے جہاز کے استعمال پر دانشور بدمعاش بنے ہوئے ہیں، وہ ڈرا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں جہاز پر سوال اٹھانے والوں کے خلاف کارروائی کریں، وہ اس طرح پیش کر رہے ہیں جیسے 13 ارب کا جہاز کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ محمد اکبر باجوہ pic.twitter.com/VurLxoKLdq
— Zubair Ali Khan (@ZubairAlikhanUN) March 18, 2026








