مذاکرات کے لیے پہلے بھی کہہ چکے ہیں، ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں، ان کو پریشر کم کرنا ہوگا، محمود خان اچکزئی
محمود خان اچکزئی کی گفتگو
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے لیے میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں، ان کو پہلے پریشر کم کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: اراضی مالکان کو معاوضے کی ادائیگی روکنے کی استدعا مسترد، سی ڈی اے کا ڈویلپ پلاٹس دینے کا فیصلہ
عمران خان کی حالت اور تشویش
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری بے گناہ خواتین اور بچوں کو جیل میں قید کر رکھا ہے، ایسے کیسے مذاکرات ہوں گے؟ عمران خان نے ایسا کیا جرم کر دیا کہ اس کی ملاقاتیں بند کی گئی ہیں؟ اس کی بہنوں پر جیل کے باہر تشدد ہوتا ہے۔ خیبرپختونخوا کا وزیر اعلیٰ صرف ایک شخص نہیں، بلکہ ایک پورے صوبے کا نمائندہ ہے، اس کو اپنے لیڈر سے نہیں ملنے دیا جاتا۔
یہ بھی پڑھیں: شام کے معزول صدر بشار الاسد اور اُن کا خاندان روس پہنچ گیا
عمران خان کی صحت کے مسائل
محمود خان اچکزئی نے مزید کہا کہ عمران خان کوئی معمولی آدمی نہیں ہے، عمران خان اس وقت حکومت پاکستان کی تحویل میں ہے، اگر ان کو زکام بھی ہوتا ہے تو حکومت پاکستان اس کی ذمہ دار ہے۔ عمران خان کے ذاتی معالجین کو ان سے ملنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ یہ درست نہیں کہ عمران خان کی صحت کے بارے میں کچھ نہ کہا جائے یا عوام کو یہ باور کرایا جائے کہ کوئی مسئلہ نہیں۔
بغیر اطلاع ہسپتال منتقلی کی مذمت
عمران خان کی صحت کے حوالے سے ان کی بہنوں کی تشویش جائز ہے۔ اگر انہیں بتا کر عمران خان کو ہسپتال میں لے جایا جاتا تو مسئلہ حل ہوجاتا۔ بغیر اطلاع ہسپتال منتقلی نہایت غلط حرکت ہے۔








