ترکیہ کی فیشن انفلوئنسر کی پراسرار موت، تحقیقات جاری
عائشہ گل ایراسلان کی پراسرار موت
استنبول (ڈیلی پاکستان آن لائن) ترکیہ کی معروف فیشن انفلوئنسر عائشہ گل ایراسلان کی اچانک اور پراسرار موت نے سوشل میڈیا اور مداحوں میں شدید صدمے کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آئینی ترمیم کا معاملہ ،سینیٹ کے اجلاس کا وقت تبدیل کر دیا گیا
خاندانی تشویش اور ریسکیو ٹیم کی آمد
روزنامہ جنگ کے مطابق 27 سالہ عائشہ گل کو استنبول کے علاقے کاغیتھانے (Kağıthane) میں واقع ان کی رہائش گاہ پر بے ہوشی کی حالت میں پایا گیا۔
اہلِ خانہ کے مطابق جب وہ ان سے رابطہ نہ کر سکے تو تشویش بڑھ گئی اور انہوں نے متعلقہ حکام کو اطلاع دی۔
اطلاع ملنے پر ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور ابتدائی معائنے کے بعد ان کی موت کی تصدیق کر دی گئی۔
بعد ازاں پولیس اور پراسیکیوٹر نے جائے وقوع کا معائنہ کیا اور لاش کو مزید فرانزک جانچ کے لیے منتقل کر دیا، تاکہ موت کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: فضاء میں ہلکی ہلکی خنکی اتر آئی تھی، یکدم باہر شور مچ گیا، سب دروازے کی طرف گئے تو دیکھا گھوڑا خالی تانگے کو لے کر سرپٹ سڑک پر بھاگا جا رہا تھا
سیکیورٹی فوٹیج کی جانچ
ابتدائی معلومات کے مطابق عائشہ گل حال ہی میں بیرونِ ملک سفر سے واپس آئی تھیں۔
تحقیقات کے دوران عمارت کی سیکیورٹی فوٹیج بھی دیکھی گئی جس میں ایک شخص، سونائے کُرتولوش، کو ان کے گھر میں داخل ہوتے اور کچھ دیر بعد باہر نکلتے ہوئے دیکھا گیا۔
پولیس نے متعلقہ شخص سے پوچھ گچھ کی، تاہم بیان ریکارڈ کرنے کے بعد اسے چھوڑ دیا گیا، اس کے وکلاء کے مطابق وہ واقعے کے وقت موقع پر موجود نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: چینی صدر کی اہلیہ کی ایس سی او سربراہی اجلاس میں شریک غیر ملکی رہنماؤں کی بیگمات کے ساتھ تیانجن کی سیر
تحقیقات کا جاری عمل
حکام نے تاحال کسی بھی قسم کی بدفعلی (foul play) کی تصدیق نہیں کی ہے، تاہم کیس کو مشکوک قرار دیتے ہوئے تحقیقات جاری ہیں، فرانزک رپورٹ کے بعد ہی موت کی اصل وجہ واضح ہو سکے گی۔
عائشہ گل ایراسلان کی مقبولیت
عائشہ گل ایراسلان سوشل میڈیا پر ایک نمایاں فیشن انفلوئنسر کے طور پر جانی جاتی تھیں اور ان کے لاکھوں فالوورز تھے، وہ ترک فیشن شو میں بھی نظر آ چکی تھیں، جس سے ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا تھا۔
ان کی موت کی خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مداحوں کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے، جہاں انہیں ایک باصلاحیت اور متاثر کن شخصیت قرار دیتے ہوئے خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔








