ثقافتی ورثہ کا تحفظ: لاہور کی عمارتوں اور شاہراہوں کے پرانے نام بحال کرنے کا فیصلہ
پنجاب حکومت کا ثقافتی ورثہ تحفظ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب حکومت نے ثقافتی ورثہ کا تحفظ کرتے ہوئے لاہور کی عمارتوں اور شاہراہوں کے پرانے نام بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قلات: دہشتگردوں کی سیکیورٹی فورسز کی پوسٹ پر حملے کی کوشش،6 دہشتگرد ہلاک،فائرنگ کے تبادلے میں7 جوان شہید
اجلاس کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق صدر مسلم لیگ (ن) میاں نوازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت لاہور ہیرٹیج ایریاز ریویو اجلاس ہوا، جس میں لاہور میں قدیمی اور تاریخی عمارتوں کے بحالی پراجیکٹس پر رپورٹ پیش کی گئی، جاری پراجیکٹ پر پیشرفت کا تصویری جائزہ بھی لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: گھریلو تشدد اور جائیداد پر قبضہ، انصاف کی تلاش میں فیصل آباد کی رہائشی بزرگ خاتون سٹریچر پر لاہور آ گئی
پرانے ناموں کی بحالی
اجلاس میں لاہور میں روڈز اور سٹریٹس کے پرانے نام بحال کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا، جبکہ یونیورسٹی کا درجہ پانے والے سرکاری کالجز کا پرانا نام بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، سرکاری کالجز کے نام کے آگے سے یونیورسٹی کا لاحقہ ہٹا کر پرانا نام ہی لکھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پاکستان کا یومِ پیدائش، پاکستان جرنلسٹس فورم نے سالگرہ کا کیک کاٹا
کانونٹ گارڈن کی تعمیر
دوران اجلاس ٹولنٹن مارکیٹ کے عقب میں کانونٹ گارڈن بنانے کا فیصلہ کیا گیا، ٹولنٹن مارکیٹ میں ایوری تھنگ آرگینک کیفے بنانے پر اتفاق ہوا، کانونٹ گارڈن میں سیمی کورڈ ایریا اور شاپس بھی بنائی جائیں گی، بائیک اور کاروں کے لئے دو منزلہ انڈر گراؤنڈ پارکنگ تعمیر ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین کے کیسز کے حوالے سے بڑا فیصلہ کر لیا
نیو میوزیم بلاک کا منصوبہ
اجلاس میں نیو میوزیم بلاک پراجیکٹ پر بھی بریفنگ دی گئی، نیو میوزیم بلاک میں ورلڈ کلاس گیلریز بنائی جائیں گی، قدیمی اسلحہ، سکے، چائنیز اور سکھ گیلری بنیں گی، نیو میوزیم بلاک میں انٹر ایکٹیو سکرین بھی سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ایٹمی طاقت ہے، دشمن میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہیں کر سکتا: احسن اقبال
قدیمی گزرگاہوں کی بحالی
شاہ عالم گیٹ تا رنگ محل چوک راستے کو پیدل گزرگاہ میں بدلنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، لاہور کی 8 قدیمی اور تاریخی گزرگاہیں بحال کرنے کا فیصلہ بھی ہوا، بھاٹی، موری، موچی، شاہ عالم، یکی، مستی، دلی گیٹ ایریاز کی اندرونی شاہی گزرگاہیں تاریخی آب و تاب کے ساتھ بحال کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی کے بعد بھارت نے کرکٹ کے ایک اور اہم عہدے پر بھی ’قبضہ ‘کر لیا
شاہی قلعے کی بحالی
اجلاس میں موچی گیٹ، اکبری گیٹ، یکی گیٹ اور مستی گیٹ کی بحالی کے پراجیکٹ پیش کیے گئے، شاہی قلعہ کی فصیل /دیوار کو قدیمی حالت میں بحال کرنے پر اتفاق ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: سی پیک منصوبوں میں ہائپر سپیکٹرل سیٹلائٹ معاون ہو گا: وزیرِ اعلیٰ
صفائی اور دیکھ بھال کے اقدامات
اس کے علاوہ تاریخی عمارتوں کی صفائی اور دیکھ بھال کیلئے ستھرا پنجاب کا سپیشل ونگ بنانے کی تجویز زیر غور آئی، پرانی عمارتوں کے بیرونی حصوں کے یکساں قدیمی ڈیزائن کی بحالی کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
داتا دربار کی توسیع
دوران اجلاس اندرون لاہور میں ہنرمندوں کی شناخت سے منسوب 36 کوچہ / گلیوں پر رپورٹ پیش کی گئی، داتا دربار کی توسیعی پراجیکٹ پر پیشرفت کا جائزہ بھی لیا گیا، توسیع کے لئے 18 کنال اراضی حاصل کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے متاثرین کو مارکیٹ ریٹس پر ادائیگی کی ہدایت کر دی۔








