عرب اسلامی ممالک کا ایران سے ہمسایہ ملکوں کے خلاف حملے فوری روکنے کا مطالبہ
عرب وزرائے خارجہ کا اجلاس
ریاض (ڈیلی پاکستان آن لائن) مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتِ حال پر عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا سعودی دارالحکومت ریاض میں اجلاس ہوا جہاں علاقائی سلامتی اور استحکام کو سپورٹ کرنے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایبٹ آباد: ڈاکٹر کی مبینہ غفلت سے 3 بہنوں کا اکلوتا بھائی جاں بحق
ایران کے خلاف سعودی مؤقف
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اجلاس کے دوران سعودی وزیرخارجہ فیصل بن فرحان نے خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب ایران حملوں کے بعد فوجی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بغیر لائسنس اسلحہ رکھنے والوں کی باری آ گئی
مذاکرات کی حمایت
خطاب کے دوران سعودی وزیرخارجہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ ایران خطے میں کشیدگی بڑھا رہا ہے، ایران ہمسایہ ممالک کے خلاف جارحانہ رویہ اپنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کی حمایت جاری رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی مظالم مقبوضہ کشمیر کے عوام کے دلوں میں جذبۂ حریت کو دبا نہیں سکتے : وزیر اعلیٰ پنجاب
پاکستان کی نمائندگی
وزرائے خارجہ اجلاس میں پاکستان کی طرف سے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے شرکت کی، دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان تمام ممالک پر حملوں کے خاتمے پر زور دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بینکر فیصل نبی قتل کیس: سندھ ہائیکورٹ نے ملزمان کی عمر قید کی سزا کو کالعدم قرار دیا
اجلاس میں شریک ممالک
اجلاس میں آذربائیجان، بحرین، شام، قطر، ترکی، اور متحدہ عرب امارات نے شرکت کی، کویت، اردن، اور مصر کے وزرائے خارجہ بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 4ماہ میں 11.84ارب ڈالر پاکستان بھیجے، سٹیٹ بینک
اعلامیہ کا جائزہ
عرب اور اسلامی ممالک کے مشاورتی اجلاس کے اعلامیے میں خطے پر ایرانی حملوں کی پُرزور مذمت کی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق ایران خلیجی ممالک کے سول انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہا ہے، ایران ہوائی اڈوں، تیل تنصیبات، سفارتخانوں اور عوامی مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے، یہ حملے کسی صورت جائز نہیں، اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے مطابق خلیجی ریاستوں کو دفاع کا حق حاصل ہے۔
ایران سے مطالبات
اعلامیے میں ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور ہمسایہ ممالک کا احترام کرے اور فوری طور پر حملے روکے۔
اعلامیے میں کہا گیا ایران خطے کے امن اور استحکام کو یقینی بنائے، اعلامیے میں ایران سے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنائے اور عالمی تجارت میں خلل پیدا نہ کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔








