آسٹریلیا سے پناہ کی درخواست واپس لینے والی ایرانی فٹبالرز وطن پہنچ گئیں
ایران کی خواتین فٹبال ٹیم کی واپسی
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کی خواتین قومی فٹبال ٹیم کی 5 کھلاڑیوں نے آسٹریلیا میں سیاسی پناہ کی درخواستیں واپس لینے کے بعد ٹیم کے دیگر ارکان کے ہمراہ وطن واپس پہنچ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز سے غیر مستحق سرکاری ملازمین کو 23 ارب 68 کروڑ روپے دینے کا انکشاف
واپسی کا راستہ
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی خواتین کھلاڑی گزشتہ روز ترکیہ سے ایران میں داخل ہوئیں، اس سے قبل وہ ملائیشیا اور عمان کے راستے واپس پہنچی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: پیغام ملا ہے کہ مجھے کسی ایکسیڈنٹ کے ذریعے قتل کر دیا جائے گا اور میری بیٹیوں کو ذلیل و رسوا کیا جائے گا، جاوید ہاشمی
سرحدی عبور کا منظر
تصاویر میں کھلاڑیوں کو ٹریک سوٹس میں سرحد عبور کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مہمانوں کی گفتگو ختم ہونے اور چائے کے بعد سٹیزن کونسل میں جنرل راحت لطیف نے ستیاپال جی کے ساتھ کشمیر کے بارے میں گفتگو شروع کر دی۔
پناہ کی درخواست کا پس منظر
ابتدائی طور پر بعض کھلاڑیوں نے انسانی بنیادوں پر آسٹریلیا میں رہنے کے لیے ویزا کی درخواست دی تھی، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ ایشیاء کپ کے ابتدائی میچ میں قومی ترانے کے دوران خاموش رہنے پر انہیں ایران میں ممکنہ طور پر نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چاہت فتح علی خان نے انڈے پھینکنے کے واقعے پر خاموشی توڑ دی
کھلاڑیوں کی شناخت
ان کھلاڑیوں میں سے 3 کے نام ایرانی تارکینِ وطن کے کارکنوں نے زہرا سلطانی مشککار، مونا حمودی اور زہرا سربالی کے طور پر بتائے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بدتمیزی اور بہتان تراشی کا جواب ہم کارکردگی سے دیں گے: عظمیٰ بخاری
کپتان کی حالت
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق کپتان زہرا غنبری بھی ان میں شامل تھیں، جبکہ پانچویں کھلاڑی کا نام تاحال ظاہر نہیں کیا گیا۔
پناہ گزین کھلاڑیوں کی تعداد
صرف 2 کھلاڑی، جنہیں پناہ دی گئی تھی، بطور منحرف افراد آسٹریلیا میں ہی رہ گئی ہیں۔








