اولڈایئرپورٹ راولپنڈی روڈ پر بائیک لائن بنانے کے بعد توڑے جانے پر شہری نے حکومت کی پلاننگ پر سوالات اٹھا دیئے
راہولپنڈی میں بائیک لائن کی تعمیر پر سوالات
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)اولڈایئرپورٹ راولپنڈی روڈ پر کروڑوں روپے لگا کر بائیک لائن بنانے کے بعد توڑے جانے پر شہری نے حکومت کی پلاننگ پر سوالات اٹھا دیئے۔
یہ بھی پڑھیں: بیٹی کے قتل کے الزام میں 21 سال قید کاٹے والے شخص کی سزائے موت ڈیڑھ گھنٹہ قبل مؤخر کر دی گئی
شہری کی باتیں
وائرل ویڈیو میں شہری کو کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اولڈ ایئرپورٹ راولپنڈی روڈ پر پہلے کروڑوں روپے عوام کے پیسے لگا کر یہ بائیک لائن بنائی گئی تھی۔ ہوسکتاہے کہ اس جگہ کچھ بہتر بنایا جائے، لیکن سوال یہ ہے کہ پہلے منصوبہ بنا کر کیوں نہیں سوچا گیا؟ یہی پیسہ جو کروڑوں میں ضائع ہوا، اگر کسی حقیقی ضرورت کی جگہ لگایا جاتا تو عوام کو بہت فائدہ ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں طوفانی بارش اور سیلابی صورتحال کے باعث خطرے کے سائرن بجا دیئے گئے، سرکاری اہلکار ہاتھ سے پرانے زمانے کے سائرن بجاتے رہے
عوامی سہولیات کی ضرورت
ویڈیو میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر اس جگہ ہسپتال، سکول یا کمیونٹی سینٹر بنایا جاتا تو عوام کو صحت کی سہولت قریب ملتی، بچوں کے لیے تعلیمی ادارے آسانی سے دستیاب ہوتے۔ روزانہ آنے جانے کے لیے دور دراز کا سفر کم ہوتا، وقت اور پیسہ بچتا۔
یہ بھی پڑھیں: جسٹس محمد علی مظہر کا بھٹو پھانسی ریفرنس پر تفصیلی نوٹ جاری
مقامی معیشت کی مضبوطی
مقامی معیشت مضبوط ہوتی، کیونکہ روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے تھے۔ سبز لائن یا دیگر دکھاوے کے منصوبوں پر لاکھوں روپے ضائع کرنے کی بجائے حقیقی فائدہ ہوتا۔
بس سب کچھ سبز رنگ لگانے یا دکھاوے کے منصوبوں میں لاکھوں روپے خرچ کیے گئے، اور اب یہی حال ہوا۔ عوام کا پیسہ ضائع ہونے کے بجائے عوام کی سہولت اور فلاح میں استعمال ہونا چاہیے تھا۔
یہ بھی پڑھیں: شہید کو ہلاک لکھنے کا معاملہ، پیمرا نے عدالت میں جواب جمع کرا دیا
تنقید کا حق
میں یہ بھی مانتا ہوں کہ باقی حکومت اچھے کام بھی کر رہی ہے اور وہ میں ضرور دکھاتا ہوں، لیکن جہاں غلط ہو وہاں غلط کہنا بھی آنا چاہیے۔
پہلے منصوبہ بناو، خوب تشہیر کرو، عوامی وسائل ضائع کرو اور جب ناکام ہو جائے تو خاموشی سے سمیٹ کر کسی نئے منصوبے کے لیے نکل پڑو۔۔ کوئی پوچھے گا کہ یہ آئیڈیا کس کا تھا؟ ناکامی پر کون جوابدہ ہے؟pic.twitter.com/TEoAXQOWBT
— Muhammad Zeeshan Awan (@surrakimuhammad) March 18, 2026
ماضی کے منصوبے
یاد رہے کہ اسی طرح کا منصوبہ لاہور میں بھی شروع کیا تھا، جس کی وجہ حادثات پیش آنا معمول بن گیا تھا، تاہم بعد میں انتظامیہ نے موٹر سائیکل سواروں کیلئے بنائی جانے والی لائن بھی ختم کردی۔








