پاکستان نے امریکی عہدیدار کے میزائل صلاحیتوں کے ممکنہ خطرہ سے متعلق دعوے کو سختی سے رد کیا
پاکستان کا امریکی دعووں پر ردعمل
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان ایک امریکی عہدیدار کی جانب سے پاکستان کی میزائل صلاحیتوں سے ممکنہ خطرے سے متعلق حالیہ دعوے کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رکشے پر نصیبو لعل کا گانا سننے پر شہری کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا
میزائل پروگرام کی وضاحت
دفترخارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے پاکستان کے میزائل پروگرام سے متعلق ریاست ہائے متحدہ امریکا کے ڈائریکٹر برائے قومی انٹیلی جنس کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک امریکی عہدیدار کی جانب سے پاکستان کی میزائل صلاحیتوں سے ممکنہ خطرے سے متعلق حالیہ دعوے کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس کی پنشن 23 لاکھ 90 ہزار روپے ہے، وزارت قانون
دفاعی نوعیت کی صلاحیتیں
انہوں نے کہا کہ اس امر پر زور دیا جاتا ہے کہ پاکستان کی تزویراتی صلاحیتیں خالصتاً دفاعی نوعیت کی حامل ہیں، جن کا مقصد قومی خودمختاری کا تحفظ اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔ پاکستان کا میزائل پروگرام، جو بین البراعظمی حد مار سے کہیں کم ہے، بھارت کے مقابلے میں قابلِ اعتبار کم از کم بازدار قوت کے نظریے پر مضبوطی سے قائم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 27 ویں ترمیم 1973 کے آئین کے تابوت میں آخری کیل ہے، مونس الہیٰ
بھارت کی میزائل صلاحیت کا تجزیہ
ان کا کہنا تھا کہ اس کے برعکس بھارت کی جانب سے 12000 کلومیٹر سے زائد حد مار رکھنے والی میزائل صلاحیت کی ترقی ایک ایسے رجحان کی عکاس ہے جو علاقائی سلامتی کے تقاضوں سے آگے بڑھتا ہے اور بلاشبہ خطے اور اس سے باہر کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ پاکستان، ریاست ہائے متحدہ امریکا کے ساتھ باہمی احترام، عدم امتیاز اور حقائق پر مبنی طرز عمل کی بنیاد پر تعمیری روابط کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔
امن اور استحکام کی ضرورت
طاہر اندرابی نے کہا کہ ہم ایک متوازن اور سوچے سمجھے انداز نظر کی ضرورت پر زور دیتے ہیں جو جنوبی ایشیا کی تزویراتی ضروریات سے ہم آہنگ ہو اور پورے خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ میں معاون ہو۔








