تحریک کی کامیابی سے مرتب ہونے والے متعدد مضر اثرات زہرِ قاتل ثابت ہوئے ہیں۔ نتیجتاً میرا ایمان اس امر سے اٹھ گیا کہ اکثریت ہمیشہ صحیح ہوتی ہے۔

مصنف کی تحریر

مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 340

یہ بھی پڑھیں: خانہ کعبہ کو آب زم زم اور عرقِ گلاب سے غسل دینے کی روح پرور تقریب

عوامی خدمات کا محور

راقم نذیر ناجی جیسے سکہ بند صحافی سے اتفاق کرتے ہوئے صرف اتنا اضافہ کرنا پسند کرے گا کہ کسی وزیر اعلیٰ نے پہلی مرتبہ متعدد عوامی خدمات کی فراہمی کو اپنی سرگرمیوں کا محور و مرکز بنایا ہے بالخصوص ایمرجنسی ریسکیو سروس 1122 جیسی مثالی خدمات کا ادارہ قائم کر کے ایک عظیم کارنامہ سرانجام دیا گیا جو دیگر صوبوں کے لیے بھی مثال بن رہا ہے اور دوسرے صوبے بھی اسے اپنا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت فائنل سے قبل اہم خبر، ٹکٹوں کی فروخت پر زبردست آفر لگ گئی

عدلیہ کی آزادی کی تحریک

جنرل پرویز مشرف کی جانب سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی کے اقدام کے خلاف اس کی بحالی کے لیے سپریم کورٹ بار کی جانب سے شروع کی گئی تحریک، وکلاء کے نزدیک عدلیہ کی آزادی کی تحریک تھی، جس میں پاکستان بھر کے وکلاء کی اکثریت نے بھرپور حصہ لیا اور بڑی قربانیاں دیں۔ اس جدوجہد کو ملک کے اندر اور بیرون ملک بڑی پذیرائی حاصل ہوئی۔ راقم ان دنوں ایڈووکیٹ جنرل آفس پنجاب لاہور میں بطور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خدمات انجام دے رہا تھا اور میں نے وزیر اعظم شوکت عزیز کی جانب سے جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف جنرل پرویز مشرف کو بھیجے گئے ریفرنس برائے سپریم جوڈیشل کونسل کی تفصیلات کو بغور پڑھا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اقتصادی کونسل نے معاشی اہداف اور ترقیاتی پلان کی منظوری دیدی

ریفرنس کے مضمرات

مجھے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف بھیجے گئے اس ریفرنس میں سچائی، کافی وزن محسوس ہوا تھا اور میں اس حق میں تھا کہ یہ ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل ججوں کے احتسابی ادارے میں سْنا جانا چاہیے۔ ریفرنس میں چیف جسٹس کے خلاف اپنے بیٹے ارسلان افتخار، ایک میڈیکل ڈاکٹر کو فیڈرل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی میں تعینات کروانا اور کچھ عرصہ بعد اسے پولیس سروس آف پاکستان میں ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ پولیس کی پوسٹ پر لگوانے کے لیے دباؤ ڈالنا قانون، میرٹ اور انصاف کا منہ چڑانے کے مترادف تھا اور کسی بھی چیف جسٹس کے شایان شان نہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات طے ہے

وکلاء کی تحریک کی کامیابی

وکلاء کی یہ تحریک ہر لحاظ سے کامیاب و کامران رہی کیونکہ تمام سیاسی جماعتوں سوائے حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) میڈیا، اخبارات، دانشور طبقوں تقریباً سبھی نے اس تحریک کی حمایت میں اپنا پورا زور لگا دیا تھا۔ بعد میں اس تحریک کی کامیابی سے مرتب ہونے والے متعدد مضر اثرات وکلاء برادری، معاشرے اور ملک کے حق میں زہرِ قاتل ثابت ہوئے ہیں۔ نتیجتاً میرا ایمان اس امر سے اٹھ گیا ہے کہ اکثریت ہمیشہ صحیح ہوتی ہے۔

وکلا ء تحریک کے مضر اثرات

  • وکلا ء تحریک کے دباؤ کے نتیجہ میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل نے بغیر سْنے خارج کر دیا۔ اگر یہ ریفرنس سْنا جاتا تو چیف جسٹس اپنے عہدہ سے فارغ بھی کئے جا سکتے تھے۔ ایسی صورت میں نہ وکلاء تحریک چلتی اور نہ ملک کا اتنا نقصان ہوتاجو افتخار محمد چودھری کی بحالی کی صورت میں ہوا۔ مسلسل ایک سال تک تحریک بحالی چیف جسٹس سڑکوں پر جلسے جلوسوں کی شکل میں جاری رہی۔ ملک کی اقتصادیات کو بے حد نقصان پہنچا۔

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...