اڈیالہ جیل میں بدعنوانی کے الزامات پر اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹ سمیت 3 ملازمین معطل
راولپنڈی میں معطل ہونے والے ملازمین
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن )اڈیالہ جیل میں فرائض میں غفلت اور بدعنوانی کے سنگین الزامات پر اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ سمیت 3 ملازمین کو 90 روز کے لیے معطل کر دیا گیا، جبکہ آئی جی جیل خانہ جات پنجاب نے تمام افراد کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 2019 میں بھارتی پائلٹ کو چائے پلائی، اب ایسا کچھ ہوا تو بھرپور جواب دینگے: وزیر اطلاعات
معطل ہونے والے افراد کی تفصیلات
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق معطل ہونے والوں میں انچارج ویٹنگ شیڈ اسسٹنٹنٹ سپرنٹنڈنٹ عمران شہزاد، انچارج سامان تلاشی وارڈر سہیل احمد اور امدادی سامان وصولی وارڈر شفقت نوید شامل ہیں۔ یہ کارروائی ڈی جی مانیٹرنگ ہوم ڈیپارٹمنٹ اطہر سعید کے اچانک دورے کے دوران عمل میں لائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی اداکارہ رِدھی ڈوگرا کے فواد خان کے ساتھ اپنی فلم کے حوالے سے اہم انکشافات
رشوت وصولی کا معاملہ
دورے کے دوران وارڈر سہیل احمد کی جرابوں سے 18 ہزار 220 روپے برآمد ہوئے۔ یہ نقدی مبینہ طور پر ملاقاتیوں سے سامان کی وصولی کے عوض رشوت کے طور پر لی گئی تھی۔ اسی طرح وارڈر سہیل احمد کو مبینہ رشوت خوری کے باعث معطل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک فضائیہ کے سی 130 طیارے کا گلگت بلتستان میں کامیاب ریسکیو مشن
دیگر ملازمین کی معطلی کی وجوہات
وارڈر شفقت نوید کو غیر قانونی سرگرمی روکنے میں ناکامی پر جبکہ اسسٹنٹنٹ سپرنٹنڈنٹ عمران شہزاد کو بطور انچارج اپنے ماتحت عملے کی غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے میں ناکام رہنے پر معطل کیا گیا۔ ان تمام افراد سے ایک ہفتے میں جواب طلب کیا گیا ہے۔
سماعت کی تاریخ اور ممکنہ نتائج
محکمہ داخلہ نے تمام معطل ملازمین کو ذاتی حیثیت میں سماعت کے لیے 25 مارچ کو طلب کر لیا ہے، جنہیں تسلی بخش جواب نہ دینے کی صورت میں پیڈا ایکٹ کے تحت ملازمت سے برطرفی یا بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔








