اڈیالہ جیل میں بدعنوانی کے الزامات پر اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹ سمیت 3 ملازمین معطل
راولپنڈی میں معطل ہونے والے ملازمین
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن )اڈیالہ جیل میں فرائض میں غفلت اور بدعنوانی کے سنگین الزامات پر اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ سمیت 3 ملازمین کو 90 روز کے لیے معطل کر دیا گیا، جبکہ آئی جی جیل خانہ جات پنجاب نے تمام افراد کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا؟
معطل ہونے والے افراد کی تفصیلات
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق معطل ہونے والوں میں انچارج ویٹنگ شیڈ اسسٹنٹنٹ سپرنٹنڈنٹ عمران شہزاد، انچارج سامان تلاشی وارڈر سہیل احمد اور امدادی سامان وصولی وارڈر شفقت نوید شامل ہیں۔ یہ کارروائی ڈی جی مانیٹرنگ ہوم ڈیپارٹمنٹ اطہر سعید کے اچانک دورے کے دوران عمل میں لائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام فالس فلیگ آپریشن، “را” کی لیک دستاویزات میں چونکا دینے والے انکشافات، بھارتی میڈیا کو کیا ٹارگٹ دیا گیا تھا۔؟ جانیے
رشوت وصولی کا معاملہ
دورے کے دوران وارڈر سہیل احمد کی جرابوں سے 18 ہزار 220 روپے برآمد ہوئے۔ یہ نقدی مبینہ طور پر ملاقاتیوں سے سامان کی وصولی کے عوض رشوت کے طور پر لی گئی تھی۔ اسی طرح وارڈر سہیل احمد کو مبینہ رشوت خوری کے باعث معطل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شاندار خبر، وہ یورپی ملک جس نے فلسطینی ریاست کو اگلے ماہ تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا
دیگر ملازمین کی معطلی کی وجوہات
وارڈر شفقت نوید کو غیر قانونی سرگرمی روکنے میں ناکامی پر جبکہ اسسٹنٹنٹ سپرنٹنڈنٹ عمران شہزاد کو بطور انچارج اپنے ماتحت عملے کی غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے میں ناکام رہنے پر معطل کیا گیا۔ ان تمام افراد سے ایک ہفتے میں جواب طلب کیا گیا ہے۔
سماعت کی تاریخ اور ممکنہ نتائج
محکمہ داخلہ نے تمام معطل ملازمین کو ذاتی حیثیت میں سماعت کے لیے 25 مارچ کو طلب کر لیا ہے، جنہیں تسلی بخش جواب نہ دینے کی صورت میں پیڈا ایکٹ کے تحت ملازمت سے برطرفی یا بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔








