پاکستان میں ایل این جی نہیں آئے گی لیکن ٹرمینل آپریٹرز کو پیسے دینے ہوں گے
پاکستان کے RLNG ٹرمینلز کے لیے ادائیگیاں جاری
اسلام آباد(ویب ڈیسک ) قطر انرجی کی جانب سے فورس میجر کے اعلان کے باوجود پاکستان کو اپنے دو RLNG ٹرمینلز کو یومیہ 538,535 ڈالر (تقریباً 15 ملین ڈالر ماہانہ) کی گنجائش اور استعمال کی مد میں ادائیگیاں جاری رکھنا ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ، پاک افغان کشیدگی پر تبادلہ خیال
وفاقی وزیر کا موقف
جنگ میں شائع ہونے والی خالد مصطفیٰ کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ان معاہدوں کو “خراب” اور “ملک کے مفاد کے خلاف” قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب ری گیسیفکیشن کے لیے LNG دستیاب ہی نہیں تو ٹرمینل آپریٹرز کو ادائیگیاں کیوں جاری رکھی جائیں؟
یہ بھی پڑھیں: تھائی لینڈ میں ایک بھوکے ہاتھی نے دکان میں گھس کر کھانے کی اشیاء پر دھاوا بول دیا
ادائیگیوں پر قانونی خطرات
انہوں نے پاکستان ایل این جی لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی کو ہدایت کی ہے کہ وہ ٹرمینل کمپنیوں سے بات چیت کرکے ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ تاہم ایک ٹرمینل آپریٹر نے واضح کیا ہے کہ معاہدوں میں فورس میجر کے تحت ادائیگیاں معطل کرنے کی اجازت نہیں، اور اگر پاکستان نے یکطرفہ طور پر ادائیگی روکی تو لندن کورٹ آف انٹرنیشنل آربیٹریشن میں قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔
LNG کی پیداوار میں رکاوٹ
رپورٹ کے مطابق 2 مارچ کو LNG پیداوار رکنے کے بعد 4 مارچ کو قطر انرجی نے خریدار ممالک کے لیے فورس میجر کا اعلان کیا، جس کے بعد پاکستان کے اداروں — پاکستان اسٹیٹ آئل، سوئی سدرن گیس کمپنی، سوئی نادرن اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ — نے بھی اپنے معاہدوں کے تحت فورس میجر نافذ کیا۔








