ایران جنگ کی شدت میں اضافے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے لیے پاکستان کا دفاعی تعاون عملی اقدامات کے قریب پہنچنے لگا، تجزیہ کار اشتیاق احمد کی رائے
تجزیہ کار کا مشاہدہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) تجزیہ کار اشتیاق احمد نے اپنے حالیہ کالم میں ایران کی امریکہ اور اسرائیل جنگ کے حوالے سے تجزیہ پیش کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی ڈیفنس ڈیل کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کامسیٹس یونیورسٹی اور نیشنل انکیوبیشن سینٹر کے درمیان سٹریٹیجک شراکت داری قائم
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات
اشتیاق احمد کے مطابق، ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ اب اس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون محض ایک "پالیسی" نہیں رہا۔ بلکہ اب اس کی عملی نوعیت سامنے آ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پوپ فرانسس کا تابوت آخری دیدار کیلئے رکھ دیا گیا، آخری رسومات کب ادا کی جائیں گی اور ان کا خرچہ کون دے گا؟
سعودی عرب کے ساتھ روابط کی حقیقت
دی فرائی ڈے ٹائمز میں شائع ہونے والے کالم میں، تجزیہ کار نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ جغرافیائی ضرورت کے تحت سفارتی تعلقات تو برقرار رکھے ہوئے ہے لیکن اس کا حقیقی دفاعی اور معاشی جھکاؤ سعودی عرب کی طرف واضح طور پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیصلے کے لیے وڈیرے کے پاس جانیوالی زیادتی کی شکار لڑکی کی پراسرار موت
خلیجی ممالک کا رد عمل
ایران کی جانب سے قطر، یو اے ای اور سعودی عرب کی گیس اور تیل کی تنصیبات پر حملوں نے خلیجی ممالک کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں خطے میں ایک بڑے اجتماعی ردعمل کا امکان بڑھ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیویارک ایئر پورٹ پر خوفناک حادثہ، کینیڈین ایئر لائنز کا مسافر طیارہ لینڈنگ کے دوران فائر ٹرک سے ٹکرا گیا
پاکستان کا ممکنہ کردار
اگر خلیجی ممالک براہِ راست اس جنگ کا حصہ بنتے ہیں، تو پاکستان کا کردار محض علامتی نہیں رہے گا بلکہ وہ سعودی حدود کے تحفظ، بحری گزرگاہوں کی حفاظت اور اہم تنصیبات کے دفاع کے لیے عملی دفاعی کارروائیوں میں شامل ہوگا۔
پاکستان کی دفاعی قابلیت
پاکستان کی ایٹمی طاقت اور جنگی تجربہ اسے خطے کے دیگر ممالک (جیسے بھارت) کے مقابلے میں خلیجی ریاستوں کے لیے ایک زیادہ قابلِ بھروسہ اور اہم دفاعی شراکت دار بناتا ہے۔








