بار ایسوسی ایشنز کا فرض بنتا ہے کہ وہ کالی بھیڑوں پر نظر رکھیں، نوجوان وکلاء کی تربیت کا ایسے اہتمام کریں کہ وکیل رول ماڈل بن کر قانون کا بول بالا کر سکیں

مصنف: رانا امیر احمد خاں

قسط: 341

سٹیل مل کا مسئلہ

سٹیل مل جسے جنرل پرویز مشرف نے منافع بخش بنا دیا تھا، اسے پرائیویٹ سیکٹر کو فروخت کرنے سے جنرل مشرف کو چیف جسٹس نے عدالتی حکم کے ذریعے روک دیا۔ سٹیل مل دوبارہ نقصان میں چلی گئی بالآخر اسے نواز شریف کے تیسرے دور حکومت سے بند کر دیا گیا۔ اس طرح تب سے یہ مل ملک کے وسائل پر سفید ہاتھی بنی ہوئی ہے۔ ملازمین کو تنخواہیں اور مشاہرے دئیے جا رہے ہیں۔

ریکوڈک ایگریمنٹ کا اثر

بلوچستان کی کانوں سے سونا، تانبا نکالنے کے معاہدہ ریکوڈک ایگریمنٹ کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے کینسل کر دینے کے حکم کے نتیجہ میں حکومت پاکستان، جرمن عدالت کے فیصلہ کی روسے 6 ارب ڈالرز ہرجانہ ریکوڈک کمپنی کو ادا کرنے کی پابند ہے جو ملک کے زرمبادلہ کے وسائل پر ناقابلِ برداشت بوجھ بن کر رہ گیا ہے۔ اس بوجھ سے بالآخر عمران خان دور میں ریکوڈک ایگریمنٹ کو متعلقہ کمپنی سے دوبارہ معاہدہ کر کے خلاصی حاصل کی گئی۔

ججوں کی برطرفی کا معاملہ

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنی بحالی کے بعد ہائی کورٹ کے 101 ججوں کو دورانِ وکلاء تحریک، صدر پاکستان جنرل پرویزمشرف کے جاری کردہ پی سی او پر حلف اٹھانے کی وجہ سے ججی کے عہدہ سے فارغ کر دیا۔ یہ تمام جج لائق ترین ججوں میں شمار ہوتے تھے۔ اس طرح ٹیلنٹ کا ضیاع ہوا اور ہماری عدلیہ لائق ججوں سے خالی ہو کر رہ گئی ہے۔

وکلاء تحریک کے اثرات

وکلاء تحریک کے نتیجہ میں وکلاء کا ایک طبقہ ڈسپلن سے عاری اور بے مہار / بے لگام ہو گیا ہے۔ آئے روز عدالتوں پر چڑھ دوڑنے، ہڑتالیں کرنے، ججوں کو بلیک میل کرنے، عدالتوں، ججز چیمبروں کو تالے لگانے کے واقعات وکلاء برادری کے عظیم پیشہ کے لیے کلنک کا ٹیکہ بن کر رہ گئے ہیں۔ وکلاء کی بار ایسوسی ایشنوں، کونسلوں، بار کے عہدیداروں اور اداروں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس معزز پیشے میں کالی بھیڑوں پر نظر رکھیں۔ نوجوان وکلاء کی تربیت کا ایسے اہتمام کریں کہ وکیل قانون کی حکمرانی کے رول ماڈل بن کر ملک بھر میں قانون کا بول بالا کر سکیں۔ ججز کو بھی (سول کورٹس تا عدالت ہائے عالیہ و عظمیٰ) اپنے رویئے بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ چہروں کو دیکھ کر نہیں بلکہ جسٹس کارنیلس اور جسٹس بھگوان داس کی طرز پر صاحبِ کردار و عمل، انصاف پرور ججز بننے کی ضرورت ہے۔

سیاسی تناظر

عمران خان کی تحریک انصاف اگست 2018 ء تا 9 اپریل 2022ء اور پی ڈی ایم کی 13 جماعتوں کا دورِ حکمرانی اپریل 2022 ء تا اگست 2023ء۔ آج 9 اپریل 2023ء ہے۔ آج سے ٹھیک ایک سال قبل عمران خان کا 3 سال اور 8 مہینے کا دورِ حکمرانی قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کے ووٹ پاس ہونے پر اختتام پذیر ہوا اور مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں محمد شہباز شریف کی قیادت میں 13 جماعتی پی ڈی ایم اتحاد برسراقتدار آیا تھا۔ لیکن جس بھونڈے طریقہ سے بذریعہ مداخلت ہارس ٹریڈنگ اور مسلم لیگ (ن) کی ٹکٹوں کے وعدے پر پی ٹی آئی ارکان کی وفاداریاں تبدیل کر کے مقررہ آئینی مدت سے سوا ایک سال پہلے عمران خان کی حکومت کو چلتا کیا گیا۔ اس پر پاکستان کی 76 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ عوامی ردِعمل پاکستان بھر کے تمام صوبوں اور شہروں کی سڑکوں پر ہزاروں لاکھوں لوگوں کے عوامی احتجاج کی شکل میں نظر آیا۔

نوٹ

یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...