امریکی اڈوں پر ایران حملوں سے اب تک 80 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے: بی بی سی
ایرانی حملوں سے امریکی فوجی اڈوں کو بڑے نقصانات
لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن) بی بی سی اردو نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ دو ہفتوں میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے زیرِ استعمال فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں سے تقریباً 80 کروڑ ڈالر (60 کروڑ پاؤنڈ) کا نقصان ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی لبنان میں اسرائیل کا حملہ، ایک ہی خاندان کے 5 افراد شہید
جوابی کارروائی کا نقصان
سینٹر برائے سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز (سی ایس آئی ایس) کی رپورٹ اور بی بی سی کے تجزیے کے مطابق اس نقصان کا بڑا حصہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ کے آغاز کے بعد پہلے ہفتے میں ایران کی جانب سے کی جانے والی جوابی کارروائی میں ہوا تھا۔
امریکی اثاثوں کو پہنچنے والے نقصانات کی مکمل تفصیلات تو واضح نہیں ہیں، تاہم امریکی فوجی ڈھانچے کو ہونے والے 80 کروڑ ڈالر کے تخمینے — جو پہلے سامنے آنے والے اندازوں سے کہیں زیادہ ہیں — جنگ کے طول پکڑنے کے ساتھ امریکہ کو پڑنے والی بھاری قیمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بیلا روس کے صدر کی آج پاکستان آمد، اہم ملاقاتیں، مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط شیڈول
ہدف بنائے گئے نظام
ایران نے اپنی جوابی کارروائیوں میں اردن، متحدہ عرب امارات اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک میں موجود امریکی فضائی دفاعی نظام اور سیٹیلائیٹ کمیونی کیشن سسٹمز کو نشانہ بنایا ہے۔
سب سے بڑا نقصان اردن میں ایک امریکی اڈے پر تھاد (THAAD) میزائل دفاعی نظام کے ریڈار کو نشانہ بنائے جانے سے ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک نے کرنسی نوٹوں پر پین سے کوئی بھی تحریر لکھنے پر پابندی عائد کردی
مالی تخمینہ
سی ایس آئی ایس کے مطابق اے این/ٹی پی وائی-2 (AN/TPY-2) ریڈار سسٹم کی قیمت تقریباً 48 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہے۔ یہ نظام بیلسٹک میزائلوں کو دور سے مار گرانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
ایرانی حملوں سے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی عمارتوں، تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو تقریباً 31 کروڑ ڈالر کا اضافی نقصان بھی پہنچا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی ٹیم کا دورہ بنگلہ دیش، نوجوان کھلاڑیوں کو موقع، سینئرز کو آرام دینے پر غور
تسلسل کے ساتھ حملے
بی بی سی ویری فائی کے سیٹیلائیٹ تجزیے کے مطابق ایران نے کم از کم تین فضائی اڈوں کو ایک سے زیادہ مرتبہ نشانہ بنایا۔ یہ حملے اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ ایران مخصوص امریکی اثاثوں کو بار بار ٹارگٹ کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق روس نے خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں کے بارے میں ایران کو انٹیلی جنس بھی فراہم کی ہے۔
نقصان کی نشاندہی
سیٹیلائیٹ تصاویر سے کویت کے علی السالم اڈے، قطر کے العدید اڈے اور سعودی عرب کے شہزادہ سلطان ایئر بیس پر مختلف مواقع پر ہونے والے تازہ نقصان کی نشاندہی ہوتی ہے۔








