ترکی، سعودی عرب، مصر اور پاکستان کے درمیان سکیورٹی تعاون پر پیش رفت
مشترکہ صلاحیتوں کا جائزہ
ریاض (ڈیلی پاکستان آن لائن) مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے ساتھ جاری جنگ کے تناظر میں ترکی، سعودی عرب، مصر اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے پہلی بار مشترکہ طور پر اپنی صلاحیتوں کو یکجا کرنے کے امکانات پر غور کیا ہے۔ یہ ملاقات ریاض میں اسلامی ممالک کے ایک اجلاس کے موقع پر ہوئی، جہاں چاروں ممالک نے دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں بارش و برفباری کا نیا سلسلہ داخل، اسلام آباد اور راولپنڈی میں بوندا باندی شروع ہو گئی
وزرائے خارجہ کا بیان
ترک وزیر خارجہ حاکان فیدان نے کہا کہ خطے میں اثر و رسوخ رکھنے والے یہ ممالک اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ وہ کس طرح مل کر مسائل کا حل نکال سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے ممالک کو چاہیے کہ وہ خود مل بیٹھ کر اپنے مسائل حل کریں، بصورت دیگر بیرونی طاقتیں اپنے مفادات کے مطابق فیصلے مسلط کر سکتی ہیں یا حالات کو جوں کا توں رہنے دیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران، غزہ اور افغانستان کی صورتحال پر انتہائی دل گرفتہ ہوں، ملالہ یوسفزئی کا اقوام متحدہ میں خطاب
موجودہ سکیورٹی معاہدے کی کوششیں
مڈل ایسٹ آئی کے مطابق ترکی گزشتہ سال سے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ ایک سکیورٹی معاہدے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ بعد ازاں مصر کو بھی اس ممکنہ اتحاد میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی۔ ذرائع کے مطابق یہ مجوزہ معاہدہ نیٹو کی طرز کا نہیں ہوگا بلکہ دفاعی صنعت اور دیگر سکیورٹی معاملات میں تعاون بڑھانے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں رومانوی شاعری پر پابندی لگا دی گئی، خلاف ورزی پر سخت سزا کا اعلان
ایران کے خلاف کارروائیاں
اجلاس میں خطے کی موجودہ صورتحال، خصوصاً ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی کارروائیوں اور اس کے ردعمل میں خلیجی ممالک پر حملوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ تاہم ریاض میں جاری مشترکہ اعلامیے میں ایران کی کارروائیوں پر سخت تنقید کی گئی، جبکہ اسرائیل کا ذکر محدود انداز میں لبنان میں اس کی "توسیع پسندانہ پالیسی" کے حوالے سے کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کا خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار
اہم معاملات پر مشترکہ مؤقف
ترک وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ ان ممالک کو ایک دوسرے پر اعتماد بڑھانا ہوگا اور بعض اہم معاملات پر مشترکہ مؤقف اپنانا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی کو بین الاقوامی سطح پر ادارہ جاتی اور اجتماعی اقدامات کو آگے بڑھانے کا وسیع تجربہ حاصل ہے، جبکہ پاکستان، سعودی عرب اور مصر بھی اپنی اپنی صلاحیتوں اور علاقائی کردار کی بدولت اس ممکنہ تعاون میں اہم شراکت دار بن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور چڑیا گھر کا انتظام دوبارہ محکمے نے خود سنبھال لیا
دفاعی صنعت میں سرمایہ کاری
دفاعی تعاون کے حوالے سے ترکی نے حالیہ برسوں میں اپنی دفاعی صنعت میں نمایاں سرمایہ کاری کی ہے، خاص طور پر ڈرونز، میزائلز اور جدید طیاروں کی مقامی پیداوار میں۔ دوسری جانب پاکستان ایٹمی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ سعودی عرب جدید ٹیکنالوجی کے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ مصر، جو عرب دنیا کی سب سے بڑی آبادی رکھتا ہے، اپنی عسکری قوت کے باعث خطے میں ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔
ترکی اور مصر کے درمیان معاہدہ
اس سے قبل رجب طیب اردوان کے دورہ قاہرہ کے دوران ترکی اور مصر کے درمیان سکیورٹی تعاون بڑھانے کے لیے ایک دوطرفہ فوجی معاہدہ بھی طے پایا تھا۔ اسی موقع پر ترک اسلحہ ساز ادارے Mechanical and Chemical Industry Corporation (MKE) نے مصری وزارت دفاع کے ساتھ 350 ملین ڈالر کا معاہدہ کیا، جس میں اسلحہ کی فراہمی اور مصر میں پیداواری لائنز کے قیام شامل ہیں。








