کوریا کا 70 فیصد حصہ سرسبز پہاڑی علاقہ اس ملک کی خوبصورتی میں بے پناہ اضافہ کرتا ہے، ہمیں رات کے کھانے پر بتا دیا گیا کہ صبح سویرے اٹھنا ہو گا۔

سیموئل انڈونگ اکیڈمی کا سفر

مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 474

قیام کی تفصیلات

2 دن قیام کے بعد ہمیں سیموئل انڈونگ اکیڈمی روانہ کر دیا گیا جو سول شہر سے 3 گھنٹے کی مسافت پر انسانی آبادی سے دور "کوانگ یونیورسٹی" کی ایک شاندار عمارت میں قائم تھی۔ کوانگ یونیورسٹی وسیع رقبے پر پھیلی اور تقریباً 5 ہزار طالب علموں کی تعلیمی پیاس بجھا رہی تھی۔ اس کے بہت سے شعبہ جات میں ایرو سپیس کا شعبہ بھی شامل تھا جس میں مقامی طالب علموں کی بڑی دلچسپی تھی۔ سارا سفر پہاڑی اور خوبصورت نظاروں سے بھرا تھا۔ یاد رہے کوریا کا 70 فی صد حصہ سر سبز پہاڑی علاقہ اس ملک کی خوبصورتی میں بے پناہ اضافہ کرتا ہے۔ ہم بعد دوپہر 4 گھنٹے کی مسافت کے بعد یہاں پہنچے تھے۔

ہوسٹل میں قیام

یونیورسٹی کے ہوسٹل میں ہی ہمارا قیام تھا۔ یہ شاندار ہوسٹل پہاڑی کی ٹاپ پر تعمیر کیا گیا تھا جہاں قریب سے گزرتی سڑک اور یونیورسٹی کا نظارہ قابل دید تھا۔ ہماری پروگرام کوآرڈینیٹر ڈاکٹر کی 40 سالہ طالبہ، رحم دل اور سلجھی ہوئی خاتون نے ہمیں یہاں خوش آمدید کہا۔ ایک نوجوان طالب علم "کم" ہمارا لائیزن افسر تھا۔

روزمرہ کا شیڈول

پہلے دن ہی ہمیں رات کے کھانے پر بتا دیا گیا تھا کہ صبح سویرے اٹھنا ہو گا۔ پہلے ورزش پھر صبح کی سیر، ناشتہ ساڑھے سات تا ساڑھے آٹھ بجے کے درمیان۔ کلاس 9 بجے سے 1 بجے تک۔ لیکچر زیادہ تر کورین زبان میں ہی ہوتے اور ترجمان اس کا ترجمہ ساتھ ساتھ انگریزی زبان میں بتاتی تھی۔ دوپہر کھانے کا وقفہ 1 سے 2 بجے تک۔ دوبارہ کلاسز شام 5 بجے تک۔ رات کو کھانا 7 سے 8 بجے تک۔ ڈائینگ ہال میں سلف سروس تھی۔

کھانا کھانے کے بعد اپنی پلیٹ اور چمچ خود ہی کاؤنٹر پر دینے ہوتے جبکہ بچا کھانا وغیرہ متعلقہ باسکٹ میں خود ڈالنا ہوتا اور کاغذ وغیرہ دوسری ٹوکری میں۔ یہ ڈائینگ ہال آپ کو سلف ڈسپلن بھی سکھاتا تھا۔ رات 8 سے 10 بجے تک ڈسکشن ہوتی۔ یہ بہت ہی ٹائیٹ شیڈول تھا۔ ہمیں اگلے 10 دن اسی شیڈول کے ساتھ یہاں قیام کرنا تھا۔ 10 میں 3 دن مختلف مقامات اور دوسرے شہروں کے وزٹ بھی شامل تھے۔

کورین قوم کی کامیابی

کورین قوم نے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ 10 برس کی قلیل مدت میں یہ کمزور، جواری، کاہل قوم دنیا کی کامیاب ترین قوموں کی صف میں جا کھڑی ہوئی۔ 60 کی دھائی میں لوگوں کی امداد پر چلنے والا ملک آج 50 سے زیادہ ممالک کو امداد دیتا ہے۔

پاکستان اور سیموئل انڈونگ کا ماڈل

سوال یہ تھا کیا سیموئیل انڈونگ جیسے کامیاب پروگرام کو ہم پاکستان میں اپنا سکتے تھے؟ سیدھا سادہ جواب تھا "نہیں۔" وجوہات یہ ہیں:

  1. کورین ایک قوم ہے، ایک ہی زبان بولتے ہیں، ایک جیسا ہی لباس پہنتے ہیں۔ جبکہ ہماری ہاں کوئی پنجابی ہے، کوئی پٹھان، کوئی سندھی، کوئی بلوچی، کوئی شیعہ، کوئی سنی وغیرہ وغیرہ۔
  2. اس تحریک کے مقامی لیڈر صاحب حیثیت اور اس پروگرام سے مخلص لوگ تھے۔ اس تحریک میں مالی اور اخلاقی طور پر ان کی خدمات نمایاں تھیں۔
  3. ان کی قومی قیادت ملک سے مخلص، انتہا کی ایماندار، محنتی اور عوام کی صلاحیت پر پورا یقین رکھتی تھی جبکہ ہمارے ہاں نہ ہی قیادت قابل تقلید ہے نہ ہی عوام پر بھروسہ ہے۔
  4. کورین دل جمعی، ایمانداری اور فرض کی لگن سے اپنی ذمہ داری نبھائی، ہم میں یہ باتیں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔

تحریک کی روح

ہماری متفقہ رائے تھی کہ اس تحریک کی سپرٹ پر تو شاید کام کیا جا سکے لیکن عملی طور پر نہیں۔ اس تحریک کے بنیادی اصول تعاون، بھروسہ، لگن، منصوبہ بندی ہماری سوچ اور لغت میں بے معنی ہیں۔

میں نے اپنے ایک استاد سے سوال کیا؛ "کیا اس تحریک کے دوران کرپشن کا کوئی واقعہ یا بے ضابطگی ہوئی؟" وہ معنی خیز ہنسی ہنسا اور کہنے لگا؛ "تم اپنے ذہن میں ایمانداری کا بت تراشو اور پھر اسے سو سے ضرب دو۔ اس تحریک کی ساری قیادت مقامی سے لے کر قومی تک تمھارے تراشے ایمانداری کے بت سے زیادہ ایماندار تھی۔ آفرین۔"

اختتام

نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...