ایک 10 اپریل 1986ء میں آئی تھی جب دخترِ مشرق کے استقبال کیلئے عوام آئے، ایک 10 اپریل 2022ء میں آئی جب عوام ازخود سڑکوں پر نکلے۔
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 342
عمران خان کے ساڑھے تین سالہ دور کے پہلے 2سال دنیا بھر میں کوویڈ 2019ء کی نذر ہو گئے۔ معیشت، صنعت و حرفت کا پہیہ چلنا بند ہو گیا۔ نتیجتاً ڈالر کی قیمت روپے کے مقابلے تیزی سے بڑھنے کے باعث پاکستان کے قرضوں کا بوجھ مہنگائی میں اضافہ ہوتا گیا اور گروتھ زیرو فیصد تک جا پہنچی۔
کوویڈ 2019 کا اثر
لیکن عمران خان کے 2020-21ء کے سال کوویڈ وبا ء کو درست طریقے سے کنٹرول کرنے، اکانومی کا پہیہ رواں دواں رکھنے کے لئے زرعی، صنعتی، کاروباری سرگرمیوں کو سہولیات مہیا کرنے، قرضوں کے حصول میں آسانیاں پیدا کرنے، پاکستان میں پہلی دفعہ گھروں کی تعمیر کے لئے کمرشل بینکوں کو قرضے دینے کے لئے آمادہ کیا گیا۔ اس طرح ملک میں کاروں، موٹر سائیکلوں، زرعی و صنعتی پیداواروں کی فروخت، ٹیکسٹائل اشیاء اور دیگر ایکسپورٹس 24 ارب ڈالر سے بڑھ کر 33 ارب ڈالر تک جا پہنچیں۔
بیرون ملک پاکستانیوں کا کردار
بیرون ملک پاکستانیوں نے بھی دل کھول کر ڈالر پاکستان بھیجے، 30 ارب ڈالر تک جا پہنچے۔ 2017ء کے بعد 2023ء میں حالیہ مکمل کی گئی مردم شماری کے نتائج کے مطابق گزشتہ سالوں میں ادارہ شماریات آف پاکستان کی رپورٹ بابت 2021ء کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تمام ترقیاتی اشاریئے بہتری کی طرف جا رہے تھے۔ پاکستان کی شرح ترقی 6% تک پہنچ رہی تھی۔
موجودہ پاکستانی معیشت
عمران کے ساڑھے تین سالہ دور میں مہنگائی بھی آج کے مقابلے میں آدھی تھی۔ روزگار میں اضافہ ہو رہا تھا۔ پٹرول 150 روپے لیٹر تھا جو آج 282 روپے کو چھو رہا ہے۔ ڈالر ریٹ 189 روپے پر تھا جو آج 300 روپے کو ٹچ کر چکا ہے۔ 2022 اکنامک سروے آف پاکستان اور فیڈرل محکمہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق 3 سال 8 ماہ کے دوران 55 لاکھ نوکریاں صرف پرائیویٹ سیکٹر میں پیدا ہوئی تھیں۔
سیاسی بحران کی صورتحال
لیکن آج کا پاکستان سیاسی انتشار، سیاسی و عدالتی بحران، بے روزگاری، کمر توڑ مہنگائی، بربادیوں اور مایوسیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں گھرا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو اپنی رحمتوں اور فضل و کرم کے سائے میں رکھے۔
پی ڈی ایم کی حکومت پر تجزیہ
راقم کو پی ڈی ایم کی 13 جماعتوں کے میاں محمد شہباز شریف کی قیادت پی ڈی ایم کی 13 جماعتوں کے دور حکومت اپریل 2022ء تا اپریل 2023ء کے بارے میں معروف، سینئر جرنلسٹ محمود شام کے تجزیئے سے کلی اتفاق ہے جب وہ فرماتے ہیں:
”بحوالہ روزنامہ جنگ مورخہ 9 اپریل 2023 ء کالم ”مملکت سے مملکت“
”آج ٹھیک ایک سال ہو رہا ہے۔ اسلام آباد میں حکمران بدلے۔ پہلے والوں کو جو لائے تھے وہی پرانوں کو نئے کر کے لائے۔ 13 جماعتیں اکٹھی کیں اور حکومت ان کے سپرد کی۔
پاکستان کی تاریخ کا ایک اور بڑھکتا، کڑکتا، سال گزر گیا۔ اس ایک سال میں کیا نہیں ہوا۔ یہ 1958۔ 1969۔ 1977۔ 1999ء کے مارشل لاء برسوں پر بھی سبقت لے گیا۔ رات کے پچھلے پہر گھروں کی دیواریں بھی پھلانگی گئیں۔ باپ نہیں ملا تو بیٹے کو اٹھا لیا۔ یہ عقوبت خانوں کو آباد کرنے کا بھی سال تھا۔ ایک 10 اپریل 1986ء میں آئی تھی جب دخترِ مشرق کے استقبال کے لیے لاہور کی سڑکوں پر پورا پاکستان اْمڈ آیا تھا۔ ایک 10 اپریل 2022ء میں آئی جب پورے پاکستان میں عوام ازخود سڑکوں پر آ گئے تھے کہ حکومت ان کی مرضی کے بغیر کیسے رخصت کر دی گئی۔ اس روز بھی عدالت عظمیٰ تحریک عدم اعتماد کے آئینی اصول کے تحفظ کے لیے آدھی رات کو لگی تھی۔ یہی سارے جج تھے، جو آج ناپسندیدہ ہیں۔ اس روز وہ آئین کے محافظ تھے۔ اب اپریل 2023ء میں وہ انتخابات 90 دن میں کرانے کے آئینی اصول کا تحفظ کر رہے ہیں تو ان کے فیصلے اقلیتی ہو گئے ہیں“۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








