اندر جھانکا تو 3 گھڑے پانی سے خالی پائے اور چوتھے میں آدھا پانی تھا، ایک دوسرے سے آنکھیں دو چار ہوئیں تو زمین پاؤں کے نیچے سے سرکتی نظر آئی

مصنف: ع۔غ۔ جانباز

قسط:93

پانی کی کمی کا سامنا

یہ فیلڈ پارٹی اپنے پہلے مرحلے میں جب 4 میل کا فاصلہ طے کر کے وہاں نشان زدہ جگہ پر بور کر کے اور اُس کا ریکارڈ فیلڈ رجسٹر میں درج کر کے دائیں طرف مڑنے ہی والی تھی کہ دونوں میں سے ایک فیلڈ آفیسر نے جو پانی کے گھڑوں کے اندر جھانکا تو 3 گھڑے پانی سے خالی پائے اور چوتھے میں آدھا پانی تھا۔ دونوں فیلڈ آفیسرز کی جو ایک دوسرے سے آنکھیں دو چار ہوئیں تو زمین پاؤں کے نیچے سے سرکتی نظر آئی کہ 4 میل کا فاصلہ طے کرتے ساڑھے تین گھڑے پانی پی چکے۔ اب آدھا گھڑا باقی 6 میل کا فاصلہ کیونکر پورا کروائے گا۔

واپسی کا فیصلہ

عقل کام کر گئی فوراً حکم دیا اور تینوں خالی گھڑے وہیں پھینک دئیے جائیں اور آدھا گھڑا پانی کا لے کر اُسی راستے سرعت کے ساتھ واپسی ڈال دی جس راستے سے آئے تھے۔ لیکن یہ شرط بھی ساتھ رکھی گئی کہ جب کسی کو پیاس لگے تو وہ صرف آدھا گلاس پانی پی سکے گا۔

پیاس کی شدت

ایک دوڑ لگ گئی ہر کوئی اندرونی طور پر سہم چکا تھا اور زبان پر اللہ توبہ کا ذکر جاری تھا۔ یہی کوئی ڈیڑھ بجے سوکھی کڑکتی زبانوں جن میں لَب نام کی کوئی چیز نہ تھی، ہانپتے کانپتے وہ خالی گھڑا آدھا کلو میٹر پہلے ہی تھل کی نذر کر کے کانپتی لرزتی ٹانگوں کے ساتھ گاڑی تک پہنچتے پہنچتے ایک دو تو نیم بے ہوشی کی حالت میں وہیں گاڑی کے پاس گر پڑے تو ڈرائیور نے کمال ہوشیاری سے گاڑی میں پڑے پانی سے اُن کے منہ میں چھینٹے مار کر اور پانی کے گھونٹ حلق کے اندر ڈال کر اُن کو ہوش دلایا۔

بچاؤ اور بحالی

باقی سب کو آدھا آدھا گلاس پانی کا پلایا تو سب کی آنکھیں کھلیں اور زندہ ہونے کا یقین ہونے لگا۔ سب کو گاڑی میں بٹھایا فورا ڈرائیور ریسٹ ہاؤس لے آئے جہاں ٹھنڈے مشروب سے سب کی تواضع کی گئی اور کچھ کھلایا پلایا گیا تو سب کو دوبارہ زندہ سلامت ہونے کا حوصلہ ملا۔ ورنہ تھل کی یہ اندوہناک ڈیوٹی تو اس سروے پارٹی کو نگل ہی جاتی اگر وہاں موقع پر واپسی کا فوراً ڈول نہ ڈالا جاتا۔

تعلیمی سرگرمیاں

میری ملازمت کے دوران ہم فیلڈ میں جا کر ”سوئل سروے“ کی ڈیوٹی انجام دیتے تھے۔ لہٰذا پہلے دو بچّوں کو متعدد نئی نئی جگہوں پر محکمہ نہر کے ریسٹ ہاؤسز میں رہنے اور سیرو سیاحت کرنے کا موقع ملا۔ تعلیمی سرگرمیاں شروع کرتے یکے بعد دیگرے دونوں کو یونیورسٹی گراؤنڈ کے پاس واقع ”مدرسۃ البنات“ میں داخل کروا دیا گیا اور وہاں اُس سکول کی بس کے ذریعے ہی آنا جانا ہوتا رہا۔

تعلیمی مشکلات

لیکن یہ سلسلہ جاری نہ رکھّا جا سکا کیونکہ مغل پورہ گنج سے بچّوں کا مدرسۃ البنات جانے آنے میں مشکلات پیش آتی گئیں۔ ایک عجیب پُر خطر دیدہ دلیری کا واقعہ بھی سبب بنا۔ وہ یوں کہ اعجاز سعید ایک دن چھٹی کے بعد بس میں آنے کی بجائے خود ہی پیدل یونیورسٹی گراؤنڈ سے مغل پورہ کے لیے چل پڑا۔

آگے کی تعلیم

وہ تو قسمت اچھی تھی کہ گڑھی شاہو پہنچتے اُسے کے ایک اپنے عزیز ماسٹر عبد الغفور نے دیکھ لیا اور پوچھ گچھ کی تو وہ خود اُسے لے کر مغل پورہ گنج میں آیا اور گھر چھوڑ کر گیا۔ پھر دونوں کو لاہور کینٹ میں واقع ”اعظم گیریژن ہائی سکول“ میں داخل کروا دیا اور پھر وہاں سے ہی اِن دونوں نے میٹرک پاس کیا۔ اعجاز سعید میٹرک کے بعد فرسٹ ائیر گورنمنٹ کالج لاہور میں اور آصفہ ناز فرسٹ ائیر پری میڈیکل میں داخل ہوگئی۔

پیشہ ورانہ سفر

اعجاز سعید تھرڈ ائیر میں آرمی میں سلیکٹ ہو کر ”کاکول اکیڈمی“ میں چلا گیا اور آصفہ ناز ایف ایس سی پاس کرنے کے بعد ”علامہ اقبال میڈیکل کالج“ میں داخل ہوگئی۔ اعجاز سعید کاکول اکیڈمی سے پاس آؤٹ ہونے کے بعد بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ آرمی کی ”آرٹلری کور“ میں ملازم ہوگیا۔ اور آصفہ ناز ایم بی بی ایس کرنے کے بعد سروس ہسپتال لاہور میں ہاؤس جاب کرنے لگی۔

خاندان کا ذکر

اِن سے چھوٹے 2 بیٹے طارق کامران اور احمد ندیم ”باوی ہسپتال مغل پورہ“ میں اور تیسرا قمر ضیاء واپڈا ہسپتال لاہور میں پیدا ہوا۔ (جاری ہے)

نوٹ

یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...