امریکہ کو اندازہ ہوتا کہ جنگ 2 ہفتے بھی چلے گی تو وہ حملہ نہیں کرتا، خورشید شاہ
سید خورشید شاہ کی میڈیا سے گفتگو
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ امریکہ کو اندازہ ہوتا کہ جنگ 2 ہفتے بھی چلے گی تو وہ حملہ نہیں کرتا۔ سکھر میں عید ملن پارٹی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں خورشید شاہ نے کہا کہ یہ جنگ ایران امریکہ کی معاشی جنگ میں تبدیل ہوچکی ہے، دنیا میں معاشی مشکلات شروع ہوچکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بینک آف پنجاب کی اینالسٹ اور انویسٹرز کے لیے کارپوریٹ بریفنگ
امریکہ کے ساتھ تعلقات
انہوں نے کہا کہ سارے ملک امریکا کے ساتھ بہتر تعلقات رکھنا چاہتے تھے، وہ اب پیچھے ہٹ رہے ہیں، امریکہ کو اندازہ ہوتا کہ جنگ 2 ہفتے بھی چلے گی تو وہ حملہ نہیں کرتا۔ پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ ان مسلم ممالک پر بمباری ہو رہی ہے جہاں امریکی اڈے ہیں، جنگ جتنا طویل چلے گی اتنے برے اثرات پڑیں گے، ہمیں ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: ویسٹرن پروانس کرکٹ ایسوسی ایشن (ڈبلو پی سی اے) کے نائب صدر صادق الاسلام کو سپرد خاک کردیا گیا
ایران اور حقائق
اُن کا کہنا تھا کہ جن ممالک سے امریکی اڈے استعمال نہیں ہو رہے وہاں ایران کو حملے نہیں کرنے چاہئیں، ایران کا بہت نقصان ہوا ہے مگر وہ بھرپور طاقت کے ساتھ کھڑا ہے۔ خورشید شاہ نے یہ بھی کہا کہ اس جنگ سے پاکستان کے لیے بڑی مشکلات سامنے آسکتی ہیں، جنگ روکنے کے لیے پاکستان کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
افغانستان کی صورتحال
پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ کوئی شک نہیں کہ افغانستان اسرائیل اور بھارت کے ہاتھوں استعمال ہو رہا ہے۔ افغانستان نے ہماری مہمان نوازی کا بدلہ اس طرح دیا، یہ افسوسناک عمل ہے، کوئی مسلم ملک اس طرح نہیں کرسکتا جو افغانستان کر رہا ہے۔








