حالات دگرگوں ہوتے گئے، کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا، ناکامی سامنے اپنا پھن پھیلائے کھڑی رہی، لیبیا کی ملٹری ورکشاپ میں سلیکٹ ہو کر لیبیا چلا گیا
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
تعلیمی سفر کا آغاز
طارق کامران کو بھی لاہور کینٹ میں واقع گیریژن بوائز ہائی سکول داخل کروادیا۔ وہاں مڈل تک تو اِس کی تعلیمی صورتِ حال تسلّی بخش رہی لیکن نویں کلاس میں حالات دگرگوں ہوتے گئے۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ لے دے کے ایک سکول ٹیچر ”مِس ہیلڈا“ کی مِس ہینڈلنگ کے طفیل اُس پر کچھ منفی اثرات مرتب ہونے لگے اور شکایات کا آنا جانا لگا رہا۔ حالات کا جائزہ لیتے ہوئے میں نے اُسے ”مسلم ہائی سکول کینٹ“ میں داخل کروا دیا۔ لیکن وہاں بھی کوئی بہتری کی صورت حال پیدا نہ ہوسکی اور آخری کوشش کرتے ہوئے اُسے ”گورنمنٹ ہائی سکول باغبانپورہ“ میں داخل کروا دیا۔ میٹرک پاس کروانے کی جدّوجہد میں لگا رہا۔ لیکن ناکامی سامنے اپنا پھن پھیلائے کھڑی رہی۔
پیشہ ورانہ ترقی
اِسی دوران شالامار لنک روڈ پر واقع پاکستان آکسیجن لیمیٹیڈ میں ویلڈنگ کے شعبہ میں ڈپلومہ حاصل کرنے کے لیے داخل کروا دیا۔ اِسی دوران لیبیا کی ملٹری ورکشاپ میں بھرتی کے لیے ایک آئی ہوئی ٹیم کے سامنے انٹرویو دے کر لیبیا کی ملٹری ورکشاپ میں سلیکٹ ہو کر لیبیا چلا گیا۔
احمد ندیم کا سفر
احمد ندیم ”اعظم گیریژن بوائز ہائی سکول“ سے میٹرک کرنے کے بعد فارمن کرسچیئن کالج گلبرگ ایف ایس سی (نام میڈیکل) میں داخل ہوا اور وہاں سے ایف ایس سی کرنے کے بعد باغبانپورہ میں واقع ”انجینئرنگ یونیورسٹی“ سے بی ایس الیکٹریکل انجینئرنگ کرنے کے بعد واپڈا میں بطور ایس ڈی او تعینات ہوگیا۔ آخری تعیناتی شیخوپورہ میں تھی۔ پھر کینڈا میں امیگریشن لے لی اور اب تک وہاں رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے منسلک ہے۔
قمر ضیاء کی تعلیم و کامیابی
قمر ضیاء کی ذہنی اُٹھان کا از خود مشاہدہ کرتے ہوئے اِس نتیجہ پر پہنچا کہ اگر اُس کی لاہور ہی میں تعلیم جاری رکھی گئی تو اِس کا بھی کوئی منفی نتیجہ نہ برآمد ہو لہٰذا جب یہ ”گیریژن بوائز ہائی سکول“ لاہور کینٹ میں مڈل کلاس میں پڑھتا تھا تو میں نے اِسے ”ملٹری کالج جہلم“ میں داخل کروانے کے لیے ملٹری کالج کے پچھلے سالوں کے پیپرز لا کر تیاّری شروع کروادی اور مقابلہ کا امتحان دلوا دیا۔ اِس طرح میں اُسے ملٹری کالج جہلم میں آٹھویں کلاس میں داخل کروانے میں کامیاب ہوگیا۔
مزید چیلنجز اور مواقع
وہاں سے میٹرک کرنے کے بعد وہ آئی ایس ایس بی کے لیے آرمی میں سلیکشن کیلئے گیا۔ لیکن سلیکٹ نہ ہوسکا۔ لہٰذا میں نے اُسے ملٹری کالج جہلم میں ہی ایف ایس سی میں تعلیم جاری رکھنے کا کہا۔ وہاں سے ایف ایس سی کرنے کے بعد پھر آئی ایس ایس بی کے لیے گیا تو پھر بھی کامیاب نہ ہوا۔ لہٰذا پھر اُسے میں نے انجینئرنگ کالج باغبانپورہ میں مائیننگ کے شعبہ میں داخل کروا دیا۔ وہاں ابھی اس کا پہلا سال چل ہی رہا تھا کہ اِس دوران میں نے گورنمنٹ ٹیکسٹائل کالج فیصل آباد میں داخلہ کے لیے اپلائی کیا ہوا تھا۔ لہٰذا لاہور سے میں نے اُسے ٹیکسٹائل کالج فیصل آباد میں داخل کروادیا اور وہاں سے اُس نے بی ایس سی ٹیکسٹائل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی اور جلد ہی ملتان روڈ پر واقع ”منّو گروپ“ کی ایک ٹیکسٹائل مل میں 7000/- روپے ماہوار تنخواہ پر ملازم ہوگیا۔
کیرئیر کا اختتام اور نئے آغاز
اپنے اس کیرئیر کے اختتام پر بطور ٹیکنیکل جنرل مینجر مارگلہ ٹیکسٹائل ملز حسن آباد، خود ہی وہاں سے ریٹائرمنٹ لے کر ٹیکسٹائل کا شعبہ چھوڑ دیا اور اپنا پرائیویٹ کاروبار شروع کردیا۔ لیکن بعد ازاں مَنّو گروپ کی دوبارہ درخواست پر واقع ٹیکسٹائل ملز میں بطور ٹیکنیکل مینجر کا کام شروع کردیا اور اب پھر دوبارہ ٹیکسٹائل کے شعبے میں ہی پرائیویٹ کاروبار شروع کردیا۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








