مشرقی وسط میں طاقت کے زور پر معاہدے مسلط نہیں کیے جا سکتے، روس کا دوٹوک اعلان
سرگئی لاروف کا بیان
ماسکو(ڈیلی پاکستان آن لائن) روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے زور پر معاہدے مسلط نہیں کیے جا سکتے اور اس طرح کی پالیسی خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ثانیہ مرزا نے مداحوں کو خوشخبری سنا دی
امریکی پالیسیوں پر تنقید
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق اپنے ایک بیان میں سرگئی لاروف نے ایران پر امریکی حملوں کے تناظر میں کہا کہ دنیا تیزی سے ’طاقت کے قانون‘ کی طرف واپس جا رہی ہے، جہاں طاقتور ممالک اپنی مرضی مسلط کرتے ہیں جبکہ کمزور ممالک کو اس کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی؛ احتجاج کے مقدمات میں ملزمان کی عدم حاضری پر عدالت شدید برہم، ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
عالمی توازن کی خرابی
انہوں نے کہا کہ امریکا کی پالیسیوں میں صرف اپنے مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے، جس کے باعث عالمی توازن متاثر ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل نے اپنے 10 فیصد افسروں کو فارغ کردیا
مشرقِ وسطیٰ میں زبردستی معاہدے
سرگئی لاروف کے مطابق مشرقِ وسطیٰ جیسے حساس خطے میں زبردستی فیصلے یا معاہدے نافذ کرنا دیرپا امن کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صلت پاشا اور رضا ہارون نے یاسمین راشد کی رہائی کیلئے آواز بلند کر دی
انرجی کے وسائل کی جنگ
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا توانائی کے وسائل کے حصول کے لیے وینزویلا اور ایران جیسے ممالک میں دلچسپی رکھتا ہے، جبکہ دوسری جانب یورپ کو سستی توانائی سے محروم کیا جا رہا ہے، جس کے معاشی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
امن کے لیے مذاکرات کی ضرورت
سرگئی لاروف نے زور دیا کہ عالمی تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے نکالا جانا چاہیے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔








