وائٹ ہاؤس میں کرسٹوفر کولمبس کا مجسمہ نصب، ٹرمپ پالیسی پر نئی بحث چھڑ گئی
کولمبس کا مجسمہ نصب
واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدارتی رہائش گاہ وائٹ ہاؤس کے احاطے میں اطالوی مہم جو کرسٹوفر کولمبس کا مجسمہ نصب کر دیا گیا ہے، جس کے بعد امریکہ میں تاریخ اور ثقافت سے متعلق نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب، دہشت گردی کے الزامات میں ملوث 3 افراد کو سزائے موت دے دی گئی
ٹرمپ کی پالیسی کا حصہ
’’رائٹرز‘‘ کے مطابق یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے تحت وہ امریکی تاریخ اور ثقافتی بیانیے کو ازسرنو تشکیل دینا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ اس مہم کو ’’غیر امریکی نظریات‘‘ کے خلاف اقدام قرار دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کی ثالثی میں پاک افغان خفیہ مذاکرات کا پہلا دور بغیر کسی پیشرفت کے ختم ہوگیا
تاریخی علامات کی بحالی
رپورٹس کے مطابق اس پالیسی کے تحت غلامی سے متعلق بعض نمائشوں کو ختم کرنے، کنفیڈریٹ رہنماؤں کے مجسموں کی بحالی، اور دیگر تاریخی علامات کو دوبارہ نمایاں کرنے جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ سوات کی تحقیقاتی رپورٹ میں نظام کی ناکامی، اعلیٰ سطح کی نااہلی، زمین پر قبضوں کا انکشاف
انسانی حقوق کے کارکنوں کا ردعمل
’’اے پی پی‘‘ کے مطابق انسانی حقوق کے کارکنوں اور سماجی حلقوں نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کے مطابق ایسے اقدامات ماضی میں ہونے والی نسلی ناانصافیوں کے تناظر کو نظرانداز کر سکتے ہیں اور دہائیوں پر محیط سماجی پیش رفت کو متاثر کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔
ماضی کی تنقید اور مظاہرے
واضح رہے کہ 2020 میں نسلی انصاف کے لیے ہونے والے مظاہروں کے دوران امریکہ کے مختلف شہروں میں کرسٹوفر کولمبس کے متعدد مجسمے ہٹا دیئے گئے تھے، جنہیں نوآبادیاتی تاریخ اور مقامی آبادیوں کے استحصال کی علامت سمجھا جاتا ہے۔








