امریکا کی سعودی عرب کو دفاعی ہتھیاروں کی فراہمی کی منظوری
امریکہ کی سعودی عرب کو دفاعی ہتھیار فراہم کرنے کی منظوری
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی انتظامیہ نے سعودی عرب کی جانب سے دفاعی ہتھیاروں اور گولہ بارود کی دوبارہ فراہمی کی درخواستوں کو منظور کر لیا ہے۔ ایک علاقائی عہدیدار نے، جو ان معاملات سے آگاہ ہیں، بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سعودی عرب کے ایران کے ممکنہ حملوں کے خلاف دفاع کی بھرپور حمایت کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی نائب صدر نے چینی شہریوں کو ‘گنوار’ کہہ دیا، چین کا سخت ردعمل
اسلحہ منتقلی کی اجازت
عہدیدار کے مطابق امریکا نے نہ صرف براہِ راست اسلحہ فراہم کرنے کی منظوری دی ہے بلکہ تیسرے ممالک کے ذریعے اسلحہ منتقلی کی اجازت بھی دے دی ہے، جس کے بعد امریکی ساختہ ہتھیار اتحادی ممالک اپنے ذخائر سے سعودی عرب کو فراہم کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کاہنہ میں کمسن بچی سے زیادتی، مجرم کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے :حنا پرویز بٹ
ایران کے خطرات اور سعودی عرب کی تشویش
سی این این کے مطابق سعودی عرب کو سب سے زیادہ تشویش ایران کی جانب سے خطے کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے خطرات پر ہے، خاص طور پر ایسی صورت میں جب امریکا ایران کے خلاف کوئی کارروائی کرتا ہے۔ عہدیدار نے بتایا کہ خلیجی عرب ممالک کے درمیان اس معاملے پر قریبی تعاون جاری ہے، خصوصاً ان ممالک کے درمیان جو پہلے بھی ایرانی حملوں کا سامنا کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اگر گرین لینڈ پر حملہ کیا تو گولی پہلے ماریں گے اور سوال بعد میں پوچھیں گے۔ ڈنمارک نے امریکہ کو بڑی دھمکی دے دی
پیٹریاٹ میزائلوں کی فروخت
اسی تناظر میں رواں سال جنوری میں امریکی انتظامیہ نے سعودی عرب کو 730 پیٹریاٹ میزائلوں کی فروخت کی منظوری دی تھی، جس کی مالیت تقریباً 9 ارب ڈالر ہے۔ مزید برآں، نومبر میں امریکا نے سعودی عرب کو “میجر نان نیٹو اتحادی” کا درجہ بھی دیا، جس کے بعد اسلحہ کی منتقلی کے عمل کو مزید آسان بنا دیا گیا۔
خطے میں ہتھیاروں کی فروخت کی حالیہ منظوری
حالیہ دنوں میں امریکی انتظامیہ نے کانگریس کو بائی پاس کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کو تقریباً 8.4 ارب ڈالر، کویت کو 8 ارب ڈالر اور اردن کو 70.5 ملین ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کی بھی منظوری دی ہے، جسے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔








