امریکا کی سعودی عرب کو دفاعی ہتھیاروں کی فراہمی کی منظوری
امریکہ کی سعودی عرب کو دفاعی ہتھیار فراہم کرنے کی منظوری
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی انتظامیہ نے سعودی عرب کی جانب سے دفاعی ہتھیاروں اور گولہ بارود کی دوبارہ فراہمی کی درخواستوں کو منظور کر لیا ہے۔ ایک علاقائی عہدیدار نے، جو ان معاملات سے آگاہ ہیں، بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سعودی عرب کے ایران کے ممکنہ حملوں کے خلاف دفاع کی بھرپور حمایت کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 20 کلو آٹے کا تھیلا 300 روپے مہنگا
اسلحہ منتقلی کی اجازت
عہدیدار کے مطابق امریکا نے نہ صرف براہِ راست اسلحہ فراہم کرنے کی منظوری دی ہے بلکہ تیسرے ممالک کے ذریعے اسلحہ منتقلی کی اجازت بھی دے دی ہے، جس کے بعد امریکی ساختہ ہتھیار اتحادی ممالک اپنے ذخائر سے سعودی عرب کو فراہم کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ہم دوست نہیں، کونسی معروف اداکارہ ابھیشیک اور ایشوریا کی شادی میں مدعو نہ ہونے پر سخت ناراض ہوئیں؟
ایران کے خطرات اور سعودی عرب کی تشویش
سی این این کے مطابق سعودی عرب کو سب سے زیادہ تشویش ایران کی جانب سے خطے کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے خطرات پر ہے، خاص طور پر ایسی صورت میں جب امریکا ایران کے خلاف کوئی کارروائی کرتا ہے۔ عہدیدار نے بتایا کہ خلیجی عرب ممالک کے درمیان اس معاملے پر قریبی تعاون جاری ہے، خصوصاً ان ممالک کے درمیان جو پہلے بھی ایرانی حملوں کا سامنا کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ امن کوششیں ضائع کر رہی ہے، تجزیہ نگار نے بتادیا
پیٹریاٹ میزائلوں کی فروخت
اسی تناظر میں رواں سال جنوری میں امریکی انتظامیہ نے سعودی عرب کو 730 پیٹریاٹ میزائلوں کی فروخت کی منظوری دی تھی، جس کی مالیت تقریباً 9 ارب ڈالر ہے۔ مزید برآں، نومبر میں امریکا نے سعودی عرب کو “میجر نان نیٹو اتحادی” کا درجہ بھی دیا، جس کے بعد اسلحہ کی منتقلی کے عمل کو مزید آسان بنا دیا گیا۔
خطے میں ہتھیاروں کی فروخت کی حالیہ منظوری
حالیہ دنوں میں امریکی انتظامیہ نے کانگریس کو بائی پاس کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کو تقریباً 8.4 ارب ڈالر، کویت کو 8 ارب ڈالر اور اردن کو 70.5 ملین ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کی بھی منظوری دی ہے، جسے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔








