امریکی اور ایرانی حکام کی اسلام آباد میں ملاقات کے انتظامات کیے جا رہے ہیں، ایکسیوس کا دعویٰ
خفیہ مذاکرات کی تصدیق
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک غیر متوقع پیش رفت میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کے نمائندے ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے ساتھ خفیہ مذاکرات کر رہے ہیں، اور ان بات چیت میں کئی اہم نکات پر اتفاق بھی ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سینئر اداکار عاصم بخاری انتقال کر گئے
سفارتی پیش رفت
اسی دوران ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر اسلام آباد میں ممکنہ ملاقات کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس نے خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم ہاؤس میں سیاسی جماعتوں اور اراکین پارلیمنٹ کیلئے ان کیمرا بریفنگ شروع
بات چیت کا مثبت اثر
صدر ٹرمپ کے مطابق گزشتہ دو دنوں کے دوران ہونے والی “تفصیلی، تعمیری اور مثبت” بات چیت کے نتیجے میں انہوں نے ایران کے خلاف توانائی کے انفراسٹرکچر پر ممکنہ فوجی حملوں کو عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ پانچ دن کے لیے کیا گیا ہے اور اس کا انحصار جاری مذاکرات کی کامیابی پر ہوگا۔ ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ پیر کے روز فون پر مزید بات چیت جاری رہے گی جبکہ اسی ہفتے کسی وقت آمنے سامنے ملاقات بھی ممکن ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملہ قابل مذمت، خوارج کا خاتمہ ترجیح ہے: صدر، وزیراعظم
ایرانی حکام کی تردید
ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق اگرچہ ایران نے ان مذاکرات کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی قسم کی براہ راست بات چیت نہیں ہوئی، تاہم اسرائیلی حکام کے مطابق مختلف ممالک کی ثالثی کے ذریعے اسلام آباد میں ایک ممکنہ ملاقات کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
اس ملاقات میں امریکی نمائندے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر غالیباف کی شرکت متوقع ہے، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی شمولیت بھی زیر غور ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل اور ایران نے دو عشروں میں جنگ کے لیے کون سی تیاریاں کی ہیں؟
امریکہ اور ایران کے درمیان ہم آہنگی
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایرانی شخصیت کا نام ظاہر کرنے سے گریز کیا، تاہم انہوں نے اسے “انتہائی بااثر اور قابل احترام” قرار دیا، جو کہ سپریم لیڈر نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کئی اہم امور پر ہم آہنگی پیدا ہو چکی ہے، جن میں ایران کا جوہری ہتھیار نہ بنانے، یورینیم افزودگی روکنے اور اپنے موجودہ ذخائر حوالے کرنے جیسے نکات شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ایران نے میزائل پروگرام کو محدود رکھنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: علی ترین کے بعد “پی ایس ایل ماڈل” پر ایک اور فرنچائز اونر نے سوال اٹھادیا
کشیدگی کی شدت
خطے میں حالیہ کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچ گئی تھی جب ٹرمپ نے ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم دیا تھا۔
بصورت دیگر بڑے پیمانے پر حملوں کی دھمکی دی گئی تھی۔ جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں توانائی کے تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی، جس کے باعث عالمی منڈیاں شدید دباؤ کا شکار ہو گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور قلندرز کے بعد پشاور زلمی نے بھی پی ایس ایل کے ساتھ فرنچائز معاہدے کی 10 سال کے لیے تجدید کر دی۔
سفارتی کوششوں کا کردار
پسِ پردہ سفارتی کوششوں میں پاکستان، ترکی، اور مصر اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جو امریکہ اور ایران کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں مصروف ہیں۔
امریکی ذرائع کے مطابق ان ممالک کے وزرائے خارجہ نے الگ الگ امریکی نمائندوں اور ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ رابطے کیے ہیں تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار ہو سکے۔
خطے کی مستقبل کی توقعات
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر توانائی کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز کی بندش نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
اب نظریں اس ممکنہ سفارتی پیش رفت پر جمی ہوئی ہیں، جو نہ صرف خطے میں جنگ کے خطرے کو کم کر سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت کو بھی بڑی تباہی سے بچا سکتی ہے۔








