افغان طالبان حکومتی اندرونی انتشار اور شدید معاشی بدحالی کا شکار، مزاحمتی تحریکیں شدت اختیار کر گئیں
افغانستان میں مزاحمتی تحریکوں کی شدت
کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغان طالبان کا رجیم اندرونی انتشار اور شدید معاشی بدحالی کا شکار ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں افغانستان کے اندر مزاحمتی تحریکیں شدت اختیار کر گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بہن پر دہرے قتل کا الزام، نرگس فخری کو واقعے کا علم کیسے ہوا؟ حیران کن دعویٰ
این آر ایف کی کاروائیاں
تفصیلات کے مطابق طالبان کی انتہاپسندی کی وجہ سے مزاحمتی تحریک نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) نے ایک سال کی کارروائیوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت چھاتی کے سرطان سے نمٹنے کے لیے جامع اقدامات کر رہی ہے، صدر مملکت
ٹارگیٹڈ کاروائیاں
جیو نیوز کے مطابق، این آر ایف نے ایک سال میں طالبان کے خلاف 401 ٹارگٹڈ کاروائیاں کیں، جن میں کابل 126 آپریشنز کے ساتھ سرفہرست ہے۔ یہ کارروائیاں کابل، پنج شیر، بدخشان، ہرات سمیت 19 صوبوں میں کی گئیں، جس کے نتیجے میں طالبان کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کارروائیوں کے دوران افغان طالبان کے 651 افراد ہلاک اور 579 زخمی ہوئے۔
سیکیورٹی ماہرین کی رائے
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، بڑھتی ہوئی مزاحمتی تحریکیں یہ واضح اشارہ ہیں کہ افغان عوام اس غاصب رجیم سے تنگ آ چکے ہیں۔ طالبان کا رجیم اندرونی انتشار اور شدید معاشی بدحالی کے حالات کا سامنا کر رہا ہے۔








