کوریا میں سب سے مشکل چیز کیا ہے؟ اور وہ ہے کھانا، جس ہوٹل میں بھی چلے جائیں ریسٹورنٹ والے حصے میں عجیب اور ناگوار سی بو استقبال کرتی ہے۔
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 476
یہ بھی پڑھیں: احتساب عدالت فیصلے میں وجوہات نہیں، کیس واپس بھیج دیتے ہیں کہ فیصلہ کرکے وجوہات دیں، چیف جسٹس عامر فاروق کے بریت کی درخواستوں پر ریمارکس
کوریا میں مشکل
کوریا میں کھانا سب سے مشکل چیز ہے۔ آپ جس ہوٹل میں بھی جائیں، اس کے ریسٹورنٹ کے حصے میں ایک عجیب اور ناگوار سی خوشبو آپ کا استقبال کرتی ہے۔ یہاں کھانے میں بہت احتیاط کرنی پڑتی ہے کیونکہ کورین وہ سب کچھ چٹ کر جاتے ہیں جو ہمارے مذہب میں حرام ہے اور جن کا تصور بھی ہمیں قے پر مجبور کر دیتا ہے۔ دوسری جانب، یہاں کے لوگوں کے چھوٹے قد ہیں، اور اگر آپ کو کوئی چیز پسند آ جائے تو سائز کی تلاش مشکل مرحلہ بن جاتی ہے۔ پہننے کی چیز سوچ سمجھ کر خریدنی پڑتی ہے۔ یہاں ریسٹورنٹس میں بلی، سانپ، کتے، چوہے وغیرہ شیشے کے شو کیسز میں رکھے عام نظر آئیں گے۔ کورین اپنی مرضی کے جانور کے گوشت سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کو ایک اور بڑا دھچکا، چابہار بندرگاہ سے علیٰحدگی، ایران کو کتنے ملین ڈالرز ادا کردیئے؟ جانیے
کورین قوم
60ء کی دہائی کی سست، نشئی، بیکار قوم آج کی مہذب اور ترقی یافتہ نیشن ہے۔ کار مینو فیکچرنگ اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں آج کورین قوم کا شمار صف اول کے ممالک میں ہوتا ہے۔ یہاں کی مصنوعات کا دنیا بھر میں بڑا نام ہے اور کورین قوم کا بڑا مقام ہے۔ کورین خوش مزاج، رحم دل، ملنسار، محنتی، پڑھے لکھے اور خاندانی طرز زندگی پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ صاف ستھرے گھر اور جوتے گھر سے باہر اتارنے پر یقین رکھتے ہیں۔ سردیوں میں یہاں کی شدید سردی کا مقابلہ گھروں میں آگ جلا کر کیا جاتا ہے۔ نئی نسل اب انگریزی زبان سے روشناس ہو رہی ہے۔ ہر پیدل چلتا شخص کورین زبان میں “آنے ہس یو” یعنی سلام کہتا ہے۔ مسکراہٹ بھی اس معاشرے میں ایسی بکھری ہے جیسے ہمارے ملک میں اداسی۔ صبح جلدی اٹھتے ہیں اور شام کا کھانا جلدی کھا کر دس بجے تک سو جاتے ہیں۔ یہ ایک شاندار و مہذب معاشرہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلاسفیمی کیسز کے پیچھے چھپی عالمی سازش
ایک بات بتانا بھول گیا
میں اپنے ساتھ قاسم منظور سے کیمرہ بھی مانگ کر لایا تھا۔ میں اس گروپ کا سرکاری فوٹوگرافر تھا۔ کئی یادگار تصاویر اس شاندار کوریائی یاترا کی یاد تازہ کرتی آج بھی میرے پاس محفوظ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: (ن) لیگ چھوڑنے کی خبروں پر خواجہ سعد رفیق کا مؤقف بھی سامنے آ گیا
جدائی کے آنسو
تربیت کا آخری روز آن پہنچا تھا جو عموماً رسمی ہی ہوتا ہے۔ ہم نے بھی یہ رسم روایتی انداز میں نبھائی۔ سرٹیفیکیٹ تقسیم ہوئے، تعریفی کلمات ادا کئے گئے، اور پھر الوداع کا وقت آ گیا۔ بس ہمارے انتظار میں تھی اور ہم اپنی خاتون کوارڈینیٹر کے۔ کچھ دیر تک وہ نہیں آئیں تو ان کا اسسٹنٹ انہیں بلانے گیا۔ وہ آئیں مگر ان کی آنکھیں پرنم تھیں۔ پتہ چلا کہ ان چند دنوں میں وہ ہم سے اتنی مانوس ہو چکی تھی کہ الوداع کہنے کی ہمت نہیں کر پا رہی تھی۔ انہوں نے ہم سب کو گلے لگا کر کہا؛ "اتنی اپنائیت، اتنا پیار مجھے کبھی کسی اور قوم کے لوگوں سے نہیں ملا جتنا آپ لوگوں نے دیا۔ آپ سے جدائی کے لمحات میرے لئے تکلیف دہ ہیں۔" ان کے جذبات نے ہمیں بھی افسردہ کر دیا تھا۔ انسانی فطرت پیار اور اپنائیت کی بھوکی ہوتی ہے، جہاں سے بھی مل جائے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں مرغی کا گوشت پھر مہنگا، فی کلوقیمت میں 200 روپے اضافہ
سفر کی آخری منزل
ہم سیموئیل انڈونگ اکیڈمی سے روانہ ہوئے تو ہماری منزل پھر سے سول کا شہر تھا۔ یہ سفر ہم نے اکیڈمی کے دنوں، لیکچرز اور لوگوں کے ساتھ گزارے وقت کو یاد کرتے ہوئے گزارا۔ سول پہنچے تو شام کی چادر سکڑ چکی تھی۔ کوئیکا ہیڈ کواٹرز پہنچے تو ہمیں ہماری سفری دستاویزات حوالے کی گئیں کیونکہ اگلے روز ہمیں پاکستان واپس روانہ ہونا تھا۔
رات کا کھانا
گھنٹہ بھر کے آرام کے بعد ہم پھر سول شہر کی خاک چھاننے نکل گئے۔ اس آوارہ گردی سے رات گئے واپس ہوئے۔ رات ہمیں ایک مقامی قدیم روایات کے حامل ریسٹورنٹ میں روایتی کھانے سے تواضع کی گئی۔ کینڈل لائیٹ میں یہ شاندار اور تکلف سے بھرپور ڈنر تھا۔ تھکے ہارے جسم جلد ہی نیند کی آغوش میں چلے گئے۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








