سیاسی جماعتوں کی انتظامی اہلیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں، عوام نے روایتی حکمران طبقوں سے طاقت چھین لی ہے، اب فیصلے بند کمروں والے نہیں چل رہے

مصنف: رانامیر احمد خاں

قسط: 344

اصل افسوس یہ ہے کہ 12 مہینے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ہر قسم کے بحران میں مبتلا کر گئے ہیں۔ عمودی، اْفقی، آئینی، اخلاقی، سیاسی، سماجی، اقتصادی بحران اور یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ 13 سیاسی جماعتی اتحاد عوام کو درپیش کسی بڑے مسئلے کا حل نہیں کر سکا۔ اس طرح ان ساری سیاسی جماعتوں کی انتظامی اہلیت پر سوالات اْٹھ رہے ہیں۔ ان کا مستقبل مخدوش ہو رہا ہے۔ تاریخ کا غیر جانبداری سے تجزیہ کرنے والے اس سال کو اس اعتبار سے فیصلہ کن قرار دے رہے ہیں کہ پاکستان کے عوام نے روایتی حکمران طبقوں سے طاقت چھین لی ہے۔ اب فیصلے بند کمروں والے نہیں چل رہے۔ کھلے میدانوں والے چل رہے ہیں۔

معاشرتی مسائل اور انسانی حقوق کی پامالی

راقم کو دکھ اس بات کا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ارشد شریف جیسے محبِ وطن صحافی کی شہادت، صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کی پکڑ دھکڑ، گرفتاریاں، ان کے جسموں کو ننگا کر کے تشدد، جھوٹے مقدمات کی بھرمار اور انسانی حقوق کی پامالی کر کے حکومت نے کون سے اعلیٰ و ارفع مقاصد حاصل کئے ہیں سوائے اس کے کہ ملک و قوم کو مزید ابتری اور بربادی کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔ جمہوریت کو کمزور تر اور دنیا بھر میں پاکستان کے چہرے کو مزید بھدا کر کے داغدار کیا گیا ہے۔

سیاسی عدم استحکام کی وجوہات

مجھے قیوم نظامی جیسے ویٹرن سیاستدان، دانشور، کالم نگار اور چیئرمین جاگو تحریک کے روزنامہ "نوائے وقت" مورخہ 10 مئی 2023ء کالم منظر نامہ میں تحریر کردہ اس تجزئیے سے بھی کلی اتفاق ہے کہ "پاکستان کے سیاستدان 2008ء سے 2023ء تک تسلسل کے ساتھ اقتدار میں رہنے کے باوجود سیاسی استحکام پیدا نہ کر سکے۔"

آنے والے انتخابات اور توقعات

کاش 8 فروری 2024ء کو پر امن فضاء میں منعقد ہوئے عام انتخابات کو فارم 45 و فارم 47 کے تناظر میں داغدار کر کے غیر شفاف اور متنازعہ نہ بنایا ہوتا اور تمام سیاسی قیدیوں کو عام معافی کا اعلان کر کے رہا کر دیا جاتا۔ ایسا ہونے سے مجھے یقین ہے کہ وطن عزیز میں اب تک سیاسی استحکام واپس آ چکا ہوتا۔

تاریخی غلطیوں کی تلافی

اگر مقتدر حلقوں نے ماضی کی پے در پے غلطیوں سے توبہ تائب ہو کر آج 75 سال بعد غیر جانبدار ہو گئے ہیں تو شاید ماضی کی کئی تاریخی غلطیوں کا مداوا ہو جاتا۔ لیکن "بسا آرزو خاک شدہ"۔

انتخابات کی صورت حال

8 فروری 2024ء کو منعقد ہوئے انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ اور سیٹیں لینے والے مقبول لیڈر اور تحریک انصاف کو جس طرح زندہ درگور کرنے اور سیاسی کارکنوں کو ہراساں کرنے کے ضمن میں جو غیر قانونی اقدامات کیے گئے، وہ ہماری تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔

نتیجہ

یہ سب کچھ اقتدار کی جنگ اور ذاتی اناؤں کے شاخسانے ہیں۔

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...