آبنائے ہرمز کی بندش، پاکستان میں گیس بحران شدت اختیار کرنے کا خدشہ
گیس بحران کی شدت میں اضافہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث پاکستان میں گیس بحران شدت اختیار کرنے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہوائوں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان
ایل این جی کی ترسیل میں مشکلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق ایل این جی کی ترسیل متاثر ہونے سے سوئی ناردرن کو شدید شارٹ فال کا سامنا ہے، سوئی ناردرن کا گیس شارٹ فال 700 ملین کیوبک فٹ سے تجاوز کر گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ملکہ کوہسار مری کے جنگل کی حدود میں تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن شروع
گھریلو صارفین کے لئے گیس کی فراہمی میں تبدیلی
جس پر گھریلو صارفین کیلئے گیس کی فراہمی محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق صرف کھانے کے اوقات میں فل پریشر گیس فراہم کی جائے گی، صبح، دوپہر اور رات کے اوقات میں گیس بلاتعطل فراہم کرنے کا پلان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے ارشد ندیم کا اکاؤنٹ بھی بلاک کردیا
صنعتی گیس کی فراہمی کو ترجیح
انڈسٹریز کو گیس کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صنعتی پہیہ رواں رکھنے کیلئے گھریلو صارفین کو صرف کھانے کے اوقات میں گیس کی فراہمی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: کیا 10 روپے کا نوٹ ختم ہونے جا رہا ہے؟ حکومتی کمیٹی کی رپورٹ سامنے آگئی
درآمدات میں کمی کی وجہ
خلیجی روٹس متاثر ہونے سے پاکستان کی درآمدات میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق سوئی ناردرن 17 سے 18 ملین کیوبک فٹ ایل این جی درآمد کرتی ہے، موجودہ صورتحال میں درآمد کم ہو کر 1100 ملین کیوبک فٹ تک محدود ہو گئی۔
آئندہ کے خدشات
ذرائع کے مطابق آئندہ ہفتے ایل این جی درآمد میں مزید کمی کا امکان ہے جس سے گیس لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ سوئی ناردرن نے آر ایل این جی کے نیو کنکشنز محدود کر دیئے ہیں۔








