سینئر صحافی حبیب اکرم کی ملکی حالات پر سوال کرنے پر اکابرین کے حقارت بھرے لہجے پر ددرمندانہ گزارشات

حبیب اکرم کی ددرمندانہ گزارشات

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی وتجزیہ کار حبیب اکرم نے ملکی حالات پر سوال کرنے پر اکابرین کے حقارت بھرے لہجے پر ددرمندانہ گزارشات کردیں۔

یہ بھی پڑھیں: ریل کا سفر آرام دہ تھا اور رومانٹک بھی، ہم بھی بیوی والے ہو گئے تھے، وہ تھی بھی میرا چاند ہی، جیتا جاگتا، ہنستا مسکراتا، گاتا چاند، بھرے گھر سے آئی تھی۔

افغانستان کا معاملہ

پاکستان تحریک انصاف کے آفیشل سوشل میڈیا پیج پر شیئر کردہ ویڈیو میں حبیب اکرم کا اپنے تجزیے میں کہناتھا کہ افغانستان کا معاملہ کیوں الجھا، یقیناً یہ انہی کا قصور ہوگا، کیونکہ پاکستان میں تو عمران خان کی حکومت جانے کے بعد غلطی کے امکانات ختم ہو چکے ہیں۔ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ہم جیسے جو افغانستان اور پاکستان کی تاریخ کو ملا کر پڑھتے ہیں اور نتائج اخذ کرتے ہیں، غلط کرتے ہیں۔ یہ مان لینے کے باوجود جو عرض کرتے ہیں وہ پاکستان کے فائدے کیلئے ہی کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دریائے سوات میں ڈوبنے والی متاثرہ فیملی کا تعلق ڈسکہ سیالکوٹ سے ہے

حقارت کا لہجہ

سینئر صحافی کاکہناتھا کہ اس پر اکابر نے حقارت بھرے لہجے میں کہنا شروع کردیا کہ ان جیسے لوگوں کو افغانستان چلے جانا چاہئے۔ لہجے کی یہ حقارت سہماں دینے کیلئے کافی ہے، اس پر دلیل بھی دی جا سکتی ہے، یہ بھی عرض کیا جا سکتا ہے کہ یہ الفاظ کون کون اور کب کب استعمال کرتا رہا ہے مگر ہمت ہی نہیں پڑتی۔ یہ الفاظ اور یہ لہجہ پاکستان میں کبھی سنے نہیں کئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: محکمہ داخلہ نے پنجاب ای انوینٹری مینجمنٹ سسٹم متعارف کروا دیا

ایران کا معاملہ

حبیب اکرم کاکہناتھا کہ ابھی ایران کا معاملہ ہوا ہے، شیعہ علما کی ایک روداد اڑتی اڑتی سنی ہے۔ ایک فقرہ یہاں بھی روایت ہوا کہ فلاں قسم کے لوگ ایران چلے جائیں۔ اس بابت روایت میں کمی بیشی ملاقات میں موجود لوگوں کے سر ہے، البتہ گزشتہ تین، ساڑھے تین سال میں اس طرح کے فقرے کانوں میں اتنی بار پڑ چکے ہیں کہ درایتً یہ روایت بھی سقہ معلوم ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد، تہران اور استنبول ٹرین بحال کرنے کے لیے کوشاں ہیں: وزیرِ ریلوے حنیف عباسی

پاکستان کی ترقی کی آرزو

نہ جانے کیوں اکابر اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ اس ملک کے لوگ اسے ترقی کرتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ملک 25 کروڑ لوگوں کی ماؤں کا جہیز ہے، انہی شیعہ سنی لوگوں کے باپوں کی محنت کی کمائی ہے۔ ماچس کی ڈبیاں پر لگے محصول سے لے کر پیٹرول پر لگے ٹیکس تک لوگ بھرتے ہیں، تب ہی اس ملک کا نظم چلتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اک انقلابِ خونیں کی دیتا ہوں میں نوید۔۔۔

افغانستان اور ایران کے رشتے

معروف تجزیہ کار کاکہناتھا کہ افغانستان اور ایران سے اس ملک کے لوگوں کے رشتے صدیوں پرانے ہیں۔ ان دونوں ملکوں میں کچھ ہوتا ہے تو لامحالہ پاکستان کو بھی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ یقیناًاکابر عقل کل ہیں، بے شک دنیا کا ہر علم ان کے سامنے سجدہ ریز ہے، لیکن خدا کیلئے مردودان حرم کی بھی سن لی جائے۔

جائز خوف اور شکایات

ان کاکہناتھا کہ ایران کی آگ گھر تک پہنچنے کا دھڑکا ہو تو خاموش رہنا مشکل ہو جاتا ہے، افغانستان کی آگ میں بھسم ہونے کا تجربہ ہو چکا ہے۔ ایسے میں لوگ بات کریں تو انہیں سن لیا جائے، یہ جائز خوف اور جائز شکایات ہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...