سینئر صحافی حبیب اکرم کی ملکی حالات پر سوال کرنے پر اکابرین کے حقارت بھرے لہجے پر ددرمندانہ گزارشات
حبیب اکرم کی ددرمندانہ گزارشات
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی وتجزیہ کار حبیب اکرم نے ملکی حالات پر سوال کرنے پر اکابرین کے حقارت بھرے لہجے پر ددرمندانہ گزارشات کردیں۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے ججز کی بیواؤں کو سکیورٹی دینے کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا
افغانستان کا معاملہ
پاکستان تحریک انصاف کے آفیشل سوشل میڈیا پیج پر شیئر کردہ ویڈیو میں حبیب اکرم کا اپنے تجزیے میں کہناتھا کہ افغانستان کا معاملہ کیوں الجھا، یقیناً یہ انہی کا قصور ہوگا، کیونکہ پاکستان میں تو عمران خان کی حکومت جانے کے بعد غلطی کے امکانات ختم ہو چکے ہیں۔ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ہم جیسے جو افغانستان اور پاکستان کی تاریخ کو ملا کر پڑھتے ہیں اور نتائج اخذ کرتے ہیں، غلط کرتے ہیں۔ یہ مان لینے کے باوجود جو عرض کرتے ہیں وہ پاکستان کے فائدے کیلئے ہی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میری تو سٹی ہی گم ہو گئی، کوشش کے باوجود کوئی نقص نہ نکال سکا، ماڈل ریلوے کے سیٹ یورپ اور امریکہ کے تقریباً سب شہروں میں دیکھنے کو ملتے ہیں
حقارت کا لہجہ
سینئر صحافی کاکہناتھا کہ اس پر اکابر نے حقارت بھرے لہجے میں کہنا شروع کردیا کہ ان جیسے لوگوں کو افغانستان چلے جانا چاہئے۔ لہجے کی یہ حقارت سہماں دینے کیلئے کافی ہے، اس پر دلیل بھی دی جا سکتی ہے، یہ بھی عرض کیا جا سکتا ہے کہ یہ الفاظ کون کون اور کب کب استعمال کرتا رہا ہے مگر ہمت ہی نہیں پڑتی۔ یہ الفاظ اور یہ لہجہ پاکستان میں کبھی سنے نہیں کئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور آج بھی آلودہ شہروں میں سرِ فہرست، پنجاب میں کاروبارِ زندگی متاثر ہونے کا خدشہ
ایران کا معاملہ
حبیب اکرم کاکہناتھا کہ ابھی ایران کا معاملہ ہوا ہے، شیعہ علما کی ایک روداد اڑتی اڑتی سنی ہے۔ ایک فقرہ یہاں بھی روایت ہوا کہ فلاں قسم کے لوگ ایران چلے جائیں۔ اس بابت روایت میں کمی بیشی ملاقات میں موجود لوگوں کے سر ہے، البتہ گزشتہ تین، ساڑھے تین سال میں اس طرح کے فقرے کانوں میں اتنی بار پڑ چکے ہیں کہ درایتً یہ روایت بھی سقہ معلوم ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: لاہور جیولری مارکیٹ سے 20 کلو سونا چوری، سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی، چور ڈھونڈنے والے کو ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان
پاکستان کی ترقی کی آرزو
نہ جانے کیوں اکابر اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ اس ملک کے لوگ اسے ترقی کرتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ملک 25 کروڑ لوگوں کی ماؤں کا جہیز ہے، انہی شیعہ سنی لوگوں کے باپوں کی محنت کی کمائی ہے۔ ماچس کی ڈبیاں پر لگے محصول سے لے کر پیٹرول پر لگے ٹیکس تک لوگ بھرتے ہیں، تب ہی اس ملک کا نظم چلتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ماضی کی معروف بالی ووڈ اداکارہ ممتا کلکرنی کی 25 سال بعد بھارت واپسی کی وجہ سامنے آگئی
افغانستان اور ایران کے رشتے
معروف تجزیہ کار کاکہناتھا کہ افغانستان اور ایران سے اس ملک کے لوگوں کے رشتے صدیوں پرانے ہیں۔ ان دونوں ملکوں میں کچھ ہوتا ہے تو لامحالہ پاکستان کو بھی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ یقیناًاکابر عقل کل ہیں، بے شک دنیا کا ہر علم ان کے سامنے سجدہ ریز ہے، لیکن خدا کیلئے مردودان حرم کی بھی سن لی جائے۔
جائز خوف اور شکایات
ان کاکہناتھا کہ ایران کی آگ گھر تک پہنچنے کا دھڑکا ہو تو خاموش رہنا مشکل ہو جاتا ہے، افغانستان کی آگ میں بھسم ہونے کا تجربہ ہو چکا ہے۔ ایسے میں لوگ بات کریں تو انہیں سن لیا جائے، یہ جائز خوف اور جائز شکایات ہیں۔
”افغانستان کا معاملہ کیوں بگڑا؟ سوال اٹھانے حقارت بھرے لہجے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں افغانستان چلے جانا چاہیئے۔ ہمارے اشرافیہ نجانے اس بات پر یقین کیوں نہیں رکھتے کہ پاکستان میں بسنے والے عوام اس ملک کی ترقی چاہتے ہیں۔ یہ ملک 25 کروڑ لوگوں کی ماؤں کا جہیز ہے، انہی شیعہ سنی لوگوں… pic.twitter.com/R0LYmfT3g1
— PTI (@PTIofficial) March 24, 2026








