سینئر صحافی حبیب اکرم کی ملکی حالات پر سوال کرنے پر اکابرین کے حقارت بھرے لہجے پر ددرمندانہ گزارشات

حبیب اکرم کی ددرمندانہ گزارشات

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی وتجزیہ کار حبیب اکرم نے ملکی حالات پر سوال کرنے پر اکابرین کے حقارت بھرے لہجے پر ددرمندانہ گزارشات کردیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیا اگلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہوں گے یا کملا ہیرس؟ ہمیں کب تک معلوم ہو گا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟

افغانستان کا معاملہ

پاکستان تحریک انصاف کے آفیشل سوشل میڈیا پیج پر شیئر کردہ ویڈیو میں حبیب اکرم کا اپنے تجزیے میں کہناتھا کہ افغانستان کا معاملہ کیوں الجھا، یقیناً یہ انہی کا قصور ہوگا، کیونکہ پاکستان میں تو عمران خان کی حکومت جانے کے بعد غلطی کے امکانات ختم ہو چکے ہیں۔ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ہم جیسے جو افغانستان اور پاکستان کی تاریخ کو ملا کر پڑھتے ہیں اور نتائج اخذ کرتے ہیں، غلط کرتے ہیں۔ یہ مان لینے کے باوجود جو عرض کرتے ہیں وہ پاکستان کے فائدے کیلئے ہی کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج کا ایئر ڈیفنس نظام دراصل ایک افسوسناک کہانی اور کھلا مذاق ہے: ہرجیت سنگھ

حقارت کا لہجہ

سینئر صحافی کاکہناتھا کہ اس پر اکابر نے حقارت بھرے لہجے میں کہنا شروع کردیا کہ ان جیسے لوگوں کو افغانستان چلے جانا چاہئے۔ لہجے کی یہ حقارت سہماں دینے کیلئے کافی ہے، اس پر دلیل بھی دی جا سکتی ہے، یہ بھی عرض کیا جا سکتا ہے کہ یہ الفاظ کون کون اور کب کب استعمال کرتا رہا ہے مگر ہمت ہی نہیں پڑتی۔ یہ الفاظ اور یہ لہجہ پاکستان میں کبھی سنے نہیں کئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: شاہ محمود قریشی کے شکوے پر پاکستان تحریک انصاف کا ردعمل سامنے آگیا

ایران کا معاملہ

حبیب اکرم کاکہناتھا کہ ابھی ایران کا معاملہ ہوا ہے، شیعہ علما کی ایک روداد اڑتی اڑتی سنی ہے۔ ایک فقرہ یہاں بھی روایت ہوا کہ فلاں قسم کے لوگ ایران چلے جائیں۔ اس بابت روایت میں کمی بیشی ملاقات میں موجود لوگوں کے سر ہے، البتہ گزشتہ تین، ساڑھے تین سال میں اس طرح کے فقرے کانوں میں اتنی بار پڑ چکے ہیں کہ درایتً یہ روایت بھی سقہ معلوم ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نااہلی اور بدعنوانی کے الزامات ثابت، سینئر سول جج مردان برطرف

پاکستان کی ترقی کی آرزو

نہ جانے کیوں اکابر اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ اس ملک کے لوگ اسے ترقی کرتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ملک 25 کروڑ لوگوں کی ماؤں کا جہیز ہے، انہی شیعہ سنی لوگوں کے باپوں کی محنت کی کمائی ہے۔ ماچس کی ڈبیاں پر لگے محصول سے لے کر پیٹرول پر لگے ٹیکس تک لوگ بھرتے ہیں، تب ہی اس ملک کا نظم چلتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا اعلیٰ سطح کا وفد محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی برسی کی تقریب میں شرکت کرے گا

افغانستان اور ایران کے رشتے

معروف تجزیہ کار کاکہناتھا کہ افغانستان اور ایران سے اس ملک کے لوگوں کے رشتے صدیوں پرانے ہیں۔ ان دونوں ملکوں میں کچھ ہوتا ہے تو لامحالہ پاکستان کو بھی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ یقیناًاکابر عقل کل ہیں، بے شک دنیا کا ہر علم ان کے سامنے سجدہ ریز ہے، لیکن خدا کیلئے مردودان حرم کی بھی سن لی جائے۔

جائز خوف اور شکایات

ان کاکہناتھا کہ ایران کی آگ گھر تک پہنچنے کا دھڑکا ہو تو خاموش رہنا مشکل ہو جاتا ہے، افغانستان کی آگ میں بھسم ہونے کا تجربہ ہو چکا ہے۔ ایسے میں لوگ بات کریں تو انہیں سن لیا جائے، یہ جائز خوف اور جائز شکایات ہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...