آئی ایم ایف کے مطالبے پر 12 ہزار 861 بڑے ری ٹیلرز کو پوائنٹ آف سیل سسٹم سے منسلک کر دیا گیا
ایف بی آر کی بڑی پیشرفت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایف بی آر نے بڑے شاپنگ سینٹرز، ٹیکسٹائل اور چمڑے کے کاروبار سے وابستہ افراد اور ریسٹورنٹس سمیت 12 ہزار 861 بڑے ری ٹیلرز کو پوائنٹ آف سیل سسٹم سے منسلک کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ کیس سے متعلق فوجداری درخواستیں سماعت کے لیے مقرر
دستاویزی شکل دینے کی کوششیں
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق آئی ایم ایف کےمطالبے پر مختلف اقسام کے کاروبار کو دستاویزی شکل دینے کا عمل جاری ہے۔ پاکستان میں کاروبار کرنے والے بڑے ری ٹیلرز کو ایف بی آر کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم سے منسلک ہونا لازمی قرار دے دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل کی کسی ٹیم میں ہوتا تو عمر اکمل اور احمد شہزاد کو ضرور شامل کرتا، شاہد آفریدی
رجسٹریشن کی رفتار میں اضافہ
ایف بی آر کے مطابق ٹیئر ون ری ٹیلرز، ٹیکسٹائل، لیدر بزنس سے وابستہ ری ٹیلرز اور ریسٹورنٹس کی رجسٹریشن کے عمل میں تیزی آگئی ہے۔ اب تک 12 ہزار 861 بڑے بزنس یا ٹیئر ون ری ٹیلرز کو پوائنٹ آف سیل سسٹم سے جوڑ دیا گیا ہے، جن کی برانچوں کی مجموعی تعداد 35 ہزار سات سو اکسٹھ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انڈیا کے خلائی مشن ہالی وڈ کی سائنس فکشن فلموں سے سستے کیوں ہیں؟
مستقبل کے لیے منصوبے
اگلے دو سال میں مجموعی طور پر 40 ہزار ٹیئر ون ری ٹیلرز کی رجسٹریشن کا پلان ہے۔ سالانہ پچاس کروڑ روپے سے زائد ٹرن اوور یا سیل کرنے والے بڑے ری ٹیلرز کو رواں مالی سال کے اختتام تک ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: 1. 8 فروری کو سرخ و سبز رنگ اور قیدی نمبر 804 لکھ کر پتنگیں اڑیں گی، سارا لاہور آسمان پر قیدی نمبر 804 دیکھے گا، علیمہ خان
سٹیٹ کے مقاصد
ایف بی آر کے مطابق پوائنٹ آف سیلز سسٹم کا مقصد ٹیکس چوری روکنا اور ریونیو بڑھانا ہے۔ سیلز ٹیکس کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ اور الیکٹرانک انوائسنگ میں پیش رفت جاری ہے۔ ٹیئر ون ری ٹیلرز کی تعداد گیارہ ہزار تین سو ایک جبکہ برانچوں کی تعداد تئیس ہزار چھ سو چھہتر ہے۔
ریسٹورنٹس کی شمولیت
ایک ہزار بڑے ریسٹورنٹس اور ایک ہزار چارسونوے برانچز پی او ایس سسٹم سے منسلک کر دیئے گئے ہیں۔ اب تک ٹیکسٹائل اور چمڑے کے کاروبار سے منسلک پانچ سو ساٹھ ٹیئر ون ری ٹیلرز بھی رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ پی او ایس سسٹم کے ذریعے کمپیوٹرائزڈ سیلز ڈیٹا براہ راست ایف بی آر کو موصول ہوگا۔ خلاف ورزی کی صورت میں پانچ سے تیس لاکھ روپے جرمانہ یا کاروبار کی بندش کی سزا ہوگی۔








