جب قومیں یہ ٹھان لیتی ہیں کہ انہیں اوپر اٹھانا ہے، اپنے بچوں کو تابناک مستقبل دینا ہے تو یقین کریں منصوبہ بندی میں ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 477
بنکاک ائیر پورٹ
صبح 8 بجے بس ہمیں انچن ہوائی اڈے لے گئی جہاں سے کورین ائیر کا ڈی سی 10 جہاز 7 گھنٹے کی پرواز کے بعد بنکاک کے ہوائی اڈے اترا۔ اگلی پرواز میں 7 گھنٹہ کا وقت تھا۔ بنکاک ائیر پورٹ پر دنیا بھر سے سیاح آتے جاتے ہیں۔ دن رات کے ہر پہر یہاں رنگینی اور سنگینی کی بھیڑ ہوتی ہے۔ دیس دیس کی پریاں اور جن یہاں اترتے ہیں۔ یہ پریاں رنگ و نور میں کھلی، انگ انگ کا نظارہ کراتی آنکھوں سے دل میں اتر جاتی ہیں۔
کوئی کسی کی پراہ بھی نہیں کرتا۔ وہ جو بنکاک کی راتوں کے بارے سن رکھا تھا وہ دیکھنے اور سننے کے لئے ہوائی اڈے سے باہر جانا پڑتا ہے جس کا ہمارے پاس پروانہ تھا۔ بہرحال یہاں کی ڈیوٹی فری شاپ سے کچھ شاپنگ نہ کرنا گناہ ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی گناہ کرنے کو تیار نہ تھا۔ جس کا جو دل چاہا اس نے خریدا۔ اپنے ذوق اور شوق کے مطابق۔ میرے ذوق میں کچھ پرفیومز آئے جبکہ شوق میں کچھ چاکلیٹ۔
پرواز کی تیاری
اگلا جہاز رات گئے وہاں سے اڑنے کو تیار تھا۔ ہم اس میں سوار ہوئے اور سوئے منزل ہوئے۔ تھائی ائیر کی یہ فلائیٹ مسافروں سے کھچا کھچ بھری تھی۔ ما شاءاللہ سبھی پاکستانی تھے۔ تھکن سب کے چہرے سے عیاں تھی۔ کبھی یہ پی آئی اے کا بڑا منافع بخش روٹ تھا جو ہم نے نہ جانے کس لالچ یا کس کے کہنے پر تھائی ائیر کو بیچ کر تیس چالیس فی صد کے حصہ دار بن گئے۔ ہماری حکومتوں کے غلط فیصلوں کا نقصان پوری قوم کو بھگتنا پڑا تھا، پڑ رہا ہے اور لگتا ہے یہ کبھی تھمے گا نہیں۔
ہم ہندوستان کی فضائی حدود سے پرواز کرتے احمد آباد کی جگماگتی روشنیوں کے بہت اوپر سے اڑتے لاہور کی طرف رواں دواں تھے۔ لاہور کے ہوائی اڈے پر طیارہ رات کے 10 بجے اترا تو میرا بیٹا احمد میرا منتظر تھا۔ 2 ہفتے بعد اسے گلے لگایا تو سفر کی ساری تھکان دور ہو گئی تھی۔ اپنی سرزمین اور اپنے خون کی تاثیر کہیں اور نہیں ہے۔
سیموئیل انڈونگ سڈی
کوریا میں سیموئیل انڈونگ سٹڈی نے بطور ڈائریکٹر لالہ موسیٰ اکیڈمی میرے لئے بہت کارآمد ثابت ہوئی تھی۔ میں نے اس کی سپرٹ کو اپنے تربیتی پروگرامز کا حصہ بنایا۔ سیموئیل انڈونگ کا ایک سیشن متعارف کرایا۔ دراصل کوریا کی یہ تحریک پاکستان کے ایک کامیاب پروگرام "دیہات سدھار" سے بہت ملتی جلتی تھی۔
دیہات سدھار پروگرام نے بھی وطن عزیز میں دیہاتی زندگی کے بہت سے مخفی پہلو کو نہ صرف اجاگر کیا بلکہ دیہی ہنر اور ہنر مندوں کی بڑی آبیاری بھی کی۔ نہ جانے اس کامیاب پروگرام کو کس نے کیوں اور کس کے کہنے پر بند کر دیا تھا۔ ہم اکیڈمی میں ان دونوں پروگرامز کا کمپیریزن بھی کرتے اور مجھے امید ہے شرکاء کو اس تقابل سے اپنے اور کوریا کے حالات سے آگاہی اور پروگرامز کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی رہی ہوگی۔
ترقی اور کامیابی
ترقی یافتہ قومیں اپنے تن من دھن سے جب یہ ٹھان لیتی ہیں کہ انہیں قوم کو اوپر اٹھانا ہے، اپنے بچوں کو ایک تابناک مستقبل دینا ہے تو یقین کریں منصوبہ بندی میں ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دنیا کے بہت سے ممالک جو دوسری جنگ عظیم میں تباہ و برباد ہو گئے تھے آج ان کا شمار دنیا کے صف اؤل کے ممالک میں صرف ان کی محنت، فرض سے لگن اور رہنماؤں کی ایمانداری کے باعث ہی ممکن ہوا ہے۔ خوشحالی، رحم دلی، خوشی اور اطمینان ان ممالک کے عوام کے چہروں سے ٹپکتا ہے۔
وہ آیا دل فتح کئے اور دل میں ہی بس گیا، اس کے برعکس ہمارے طالع آزما بھی آئے، قبضہ بھی کیا مگر دل میں جگہ نہ بنا سکے۔ اب تو دل سے ہی اتر چکے ہیں۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








