قومی تعمیر و ترقی کے لیے ضروری ہے لمبی پلاننگ کی جائے، ایک دوسرے پر الزام تراشیاں وکیچڑ اچھالنے اور حکومتوں کو گرانے سے احتراز کریں
مصنف:رانا امیر احمد خاں
قسط:345
پاکستان کا ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے کا مختصر جائزہ
راقم نے اپنی ناقص فہم اور زندگی بھر ایک سیاسی و سماجی کارکن ہونے کے ناطے پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک جائزہ سطور بالا میں اپنے نقطہ نظر اور ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ وطن عزیز میں ہم پاکستانی من حیث القوم علم و ٹیکنالوجی اور اقتصادی ترقی کی دوڑ میں کیوں پیچھے رہ گئے ہیں جبکہ ہم سے بعد میں آزاد ہونے والی قومیں مقابلتاً کم وسائل رکھنے کے باوجود آگے نکل گئی ہیں۔ اس تحریر کا اختصار سطور ذیل میں یوں ہے۔
1. تعلیم کا نظام اور معیار
آزاد قوم کے شایانِ شان نظام تعلیم اور معیار تعلیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں ناکامی
1 ستمبر 1948ء میں قائد اعظم کے انتقال اور اکتوبر 1951ء میں پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد ہمارے حکمران اپنی ہوسِ اقتدار کے باعث سیاسی اکھاڑ پچھاڑ اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں لگے رہے ہیں۔ آزادی کے بعد کے تقاضوں کے مطابق بانیانِ پاکستان قائد و اقبال کی ویژن کی روشنی میں ہم پاکستان کے نظامِ تعلیم کو ترتیب و تدوین دینے میں آج تک ناکام ہیں۔ ہمارا معیارِ تعلیم کمزور ہے۔ ایک عام گریجوایٹ اردو، انگریزی اور مادری زبانوں میں بھی اپنا ماضی الضمیر تحریر و تقریر کے ذریعے پیش کرنے سے قاصر ہے۔ کیونکہ شارٹ کٹس اور عارضی سہاروں کا عادی بن کر کتاب بینی اور لائبریری سے دور ہو گیا ہے۔ تعلیمی شعبے میں بہتری کے لیے ضروری ہے کہ تعلیمی بجٹ میں بتدریج 2 فیصد سے 25 فیصد تک اضافہ کیا جائے۔ نصاب تعلیم میں سائنس و ٹیکنالوجی کی ترویج اور طلباء کی کردار سازی کو اہمیت دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: متوازن پالیسی پر عمل پیرا ہیں، ایران نے پاکستان کے ردِعمل کو سراہا، تائید چین اور روس نے بھی کی: سینئر سیکیورٹی عہدیدار
2. سیاسی جماعتوں کی ذمہ داریاں
سیاسی جماعتوں کو مثبت تعمیری طرز عمل اپنانے کی ضرورت
سیاسی جماعتیں اور قائدین قوم کی سیاسی تربیت کرنے، سیاسی شعور پیدا کرنے، قوم کی کردار سازی کرنے اور مسائل کا حل پیش کرنے میں سراسر ناکام ہیں۔ ان کی تمام تر توجہ اپنے ووٹ بنک بڑھانے کے لیے تمام جائز و ناجائز حربے اختیار کرنے، مخالف پارٹیوں اور لیڈروں پر الزام تراشیاں اور کیچڑ اْچھالنے پر مرکوز ہے جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتوں کو محدود خاندانی، وراثتی، علاقائی، نسلی، مذہبی بنیادوں پر استوار کرنے کی بجائے قومی، ملک گیر اور مزید جمہوری بنانے اور سیاست سے دولت کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کئے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: تمام ٹیکس دفاتر ۲۷ سے ۳۱ دسمبر تک ٹیکس کلیکشن کے پیش نظر کھلے رہیں گے، ایف بی آر
3. اقتصادی منصوبہ بندی
قومی تعمیر و ترقی کے لیے ضروری ہے لمبی پلاننگ کی جائے۔ 5 سالہ، 10 سالہ اور 25 سالہ اور 50 سالہ منصوبہ سازی کی جائے۔ اچھی حکمت عملی اور گورننس سے منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جائے، جس کے لیے ضروری ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک میں سیاسی استحکام پیدا کرنے کے لیے مل کر کام کریں۔ ایک دوسرے پر الزام تراشیاں و کیچڑ اچھالنے اور حکومتوں کو گرانے سے احتراز کریں۔
4. پارلیمنٹ کا کردار
سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز و محور بنائیں
قومی مسائل، قومی ضروریات اور دیگر تمام ایشوز پر بحث مباحثہ کرنے، آواز بلند کرنے، احتجاج کرنے اور مسائل کا حل پیش کرنے کے لیے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے اداروں کو مضبوط اور سپریم بنایا جائے۔ سیاسی جماعتوں کا بات بات پر سڑکوں پر آنا، دھرنے دینا، تحریکیں چلانا، نہ جمہوریت کی خدمت ہے اور نہ ہی سڑکوں پر آنے سے مسائل حل ہوتے ہیں۔ سڑکوں پر احتجاج کے لیے آنے کا حق سیاسی جماعتوں کو نہیں بلکہ صرف قوم کے مسائل زدہ طبقات، مزدور، کسان، خواتین وغیرہ کو ہونا چاہیے۔ پاکستان بھی دولخت اسی لیے ہوا تھا کہ حکمرانوں اور سیاستدانوں نے اپنے باہمی مسائل پارلیمنٹ میں بیٹھ کر حل کرنے کی بجائے ان کا حل سڑکوں پر اپنی اپنی ڈفلی بجا کر ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کر کے تلاش کرنا چاہا تھا۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








