سعودی عرب اور امارات نے ایسے اقدامات اٹھائے ہیں جس سے وہ تنازع میں شامل ہوسکتے ہیں، وال سٹریٹ جرنل

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اقدامات

ریاض (ڈیلی پاکستان آن لائن) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایسے اقدامات سامنے آئے ہیں جو انہیں ایران کے ساتھ جاری تنازع کے مزید قریب لا سکتے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی سفارت خانہ کے 3رکنی وفد کی اڈیالہ جیل آمد

سعودی عرب کی امریکی فوج کو رسائی

وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے امریکی فوج کو کنگ فہد ایئر بیس تک رسائی دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ یہ پیش رفت اس حوالے سے اہم سمجھی جا رہی ہے کہ اس سے قبل سعودی حکام یہ مؤقف اختیار کرتے رہے تھے کہ ان کی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی حملے کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت نے دراندازی شروع کر رکھی تھی، تربیت یافتہ دہشتگردوں کو مشرقی پاکستان بھیجا گیا جنہوں نے قتل و غارت گری شروع کر دی

متحدہ عرب امارات کا اقدام

دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے ایران سے منسلک اثاثوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ایک ایرانی ملکیت کے ہسپتال اور کلب کو بند کر دیا ہے، جسے تہران سے جڑے نیٹ ورکس کے خلاف اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت ادارہ جاتی اصلاحات کے ایجنڈے پر سنجیدگی سے عمل پیرا ہے:وزیرِ خزانہ پنجاب

میزائل کی موجودگی اور علاقائی کشیدگی

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سامنے آنے والی ویڈیوز میں مبینہ طور پر ایسے میزائل دکھائے گئے ہیں جو ایران پر حملوں میں استعمال ہوئے اور انہیں بحرین سے فائر کیا گیا، جس سے اس تنازع میں خطے کے دیگر ممالک کی ممکنہ شمولیت کا اشارہ ملتا ہے۔ تاہم امریکی فوج نے اس حوالے سے کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے کہ آیا اسے علاقائی اتحادیوں کی عملی مدد حاصل ہے یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عوام سے قربانی کا مطالبہ کرنے والے حکمران عوام کے ٹیکسوں پر عیاشیاں کررہے ہیں، حافظ نعیم الرحمان

عالمی منڈیوں میں ردعمل

ان پیش رفتوں کے بعد عالمی منڈیوں میں بھی ردعمل دیکھا گیا، جہاں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ امریکی اسٹاک انڈیکس فیوچرز میں پہلے ہونے والا اضافہ ختم ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی کے وکیل نے ضروری سامان اڈیالہ جیل پہنچادیا

ایران کے خلاف بڑھتی ہوئی ناراضی

امریکا کے خلیجی اتحادیوں کے یہ اقدامات ایران کے خلاف بڑھتی ہوئی ناراضی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں خطے کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ حال ہی میں اسرائیل کی جانب سے ایرانی گیس فیلڈ پر حملے کے بعد تہران نے مشرقِ وسطیٰ میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر جوابی کارروائیاں کیں۔

یہ بھی پڑھیں: دین اسلام تمام نوع انسانی کے لیے امن و آشتی کا پیغام ہے: وزیر اعظم شہباز شریف کا اسلامو فوبیا کے تدارک کے عالمی دن پر پیغام

ٹرمپ کی تنقید اور اقدامات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد ازاں اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا، جس کے بعد اسرائیل نے اعلان کیا کہ وہ توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کرے گا۔ ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ وہ ایران کے توانائی کے شعبے پر ممکنہ حملہ پانچ روز کے لیے مؤخر کر رہے ہیں، کیونکہ ان کے بقول تہران کے ساتھ کئی اہم نکات پر اتفاق رائے پایا گیا ہے۔

امریکی اور ایرانی رابطے

ادھر Axios نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ تاہم قالیباف نے ایسی کسی بھی براہِ راست بات چیت کی تردید کی ہے، جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے حالیہ دنوں میں بالواسطہ رابطوں کی کوشش کی لیکن تہران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...