امریکہ کا مشرق وسطیٰ میں 3 سے 4 ہزار ایلیٹ فوجی بھیجنے کا فیصلہ
امریکی فوج کی مشرق وسطیٰ میں تعیناتی کی تیاری
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) پینٹاگون مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کے ایلیٹ 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کے ہزاروں فوجیوں کو بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی کے بیٹے موسیٰ مانیکا کے خلاف اقدامِ قتل کا مقدمہ درج
فوجی طاقت میں اضافے کا فیصلہ
اس معاملے سے باخبر دو افراد نے بتایا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اس فوجی طاقت میں اضافے کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ تہران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ابھیشیک شرما اوقات سے باہر ہو گیا، پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف گھٹیا بیان دے دیا
اس صورتحال کی تفصیلات
اس سے قبل 18 مارچ کو یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ ٹرمپ انتظامیہ ہزاروں اضافی فوجیوں کی تعیناتی پر غور کر رہی ہے، جس میں ایرانی حدود کے اندر افواج بھیجنے کا آپشن بھی شامل ہے۔ اس طرح کی کشیدگی تنازع میں خطرات کو مزید بڑھا سکتی ہے جو پہلے ہی اپنے چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے اور جس کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں اضطراب پایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا، سالگرہ پر تحفے میں ملنے والے ٹکٹ نے خاتون کو ہزاروں ڈالر جتوا دیئے
پینٹاگون کی منصوبہ بندی
رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق، پینٹاگون تقریباً 3,000 سے 4,000 فوجی بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے جو اس وقت نارتھ کیرولائنا کے فورٹ بریگ میں تعینات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے: ایرانی سرکاری میڈیا
تاریخ اور مقامات کا تعین
حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ان فوجیوں کو مشرق وسطیٰ میں کس مقام پر اور کب بھیجا جائے گا۔ اگرچہ ایک ذریعے نے واضح کیا کہ تاحال ایران کے اندر فوج بھیجنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، تاہم یہ نفری خطے میں مستقبل کی ممکنہ کارروائیوں کے لیے صلاحیتوں میں اضافے کا باعث بنے گی۔
تازہ ترین نافذ کی جانے والی تعیناتیاں
یہ نئی تعیناتی اس حالیہ فیصلے کے بعد ہو رہی ہے جس کے تحت ہزاروں میرینز اور ملاحوں کو یو ایس ایس باکسر نامی بحری جہاز اور دیگر جنگی جہازوں کے ساتھ مشرق وسطیٰ روانہ کیا گیا ہے۔ خطے میں پہلے ہی 50,000 امریکی فوجی موجود ہیں اور کمک بھیجنے کی یہ خبر اس کے محض ایک دن بعد سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ 'تعمیری' بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے ایرانی پاور پلانٹس کو بمباری سے اڑانے کی دھمکیاں ملتوی کر دی تھیں۔








