آبنائے ہرمز کھل گئی، ایران نے غیر دشمن جہازوں کو گزرنے کی مشروط اجازت دے دی
ایران کا آبنائے ہرمز میں جہازوں کی حفاظت کا اعلان
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران نے اعلان کیا ہے کہ ’غیر معاندانہ‘ جہازوں کو آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کی اجازت دی جائے گی، بشرطیکہ وہ ایران کے خلاف کسی جارحانہ کارروائی میں شامل نہ ہوں اور طے شدہ سکیورٹی ضوابط پر عمل کریں۔
یہ بھی پڑھیں: ساری دنیا نے دیکھا کہ پاکستان ایک مضبوط ملک ابھر کر سامنے آیا، نواز شریف
سکیورٹی ضوابط اور ایرانی حکام کے ساتھ رابطہ
اقوام متحدہ میں ایران کے مشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جہاز متعلقہ ایرانی حکام کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کے ذریعے اس اہم آبی گزرگاہ سے گزر سکتے ہیں۔ تاہم ایران نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان ضوابط کی مکمل تفصیلات کیا ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: تعلیمی اداروں میں بچوں پر تشدد، محکمہ سکول ایجوکیشن نے اسکولز میں ڈنڈا رکھنے پر پابندی عائد کردی
آبنائے ہرمز کی اہمیت
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد اس راستے پر جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سبق سکھانے کا لمحہ قریب آ رہا ہے
جہازوں کی آمد و رفت میں کمی
رپورٹس کے مطابق جہاں جنگ سے پہلے روزانہ اوسطاً 120 جہاز اس راستے سے گزرتے تھے، اب یہ تعداد کم ہو کر چند جہازوں تک محدود ہو گئی ہے۔ پیر کے روز صرف 5 جہازوں کی نقل و حرکت ریکارڈ کی گئی، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بلاول بھٹو نے سموگ سے پریشان شہریوں کو دلچسپ مشورہ دے دیا
عالمی تیل کی قیمتوں کا اثر
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی آئی ہے اور اگر آبنائے ہرمز عملی طور پر بند رہی تو تیل کی قیمت 150 سے 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی ایئرپورٹ اور المکتوم ایئرپورٹ پر غیرملکی پروازوں کی لینڈنگ معطل
امریکی صدر کا بیان اور امن کے مذاکرات
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، اگرچہ تہران اس سے قبل ایسے دعوؤں کی تردید کر چکا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں بہتری کی امید
دوسری جانب ممکنہ امن معاہدے کی خبروں کے بعد عالمی مارکیٹ میں کچھ بہتری بھی دیکھی گئی ہے، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں اضافہ ہوا جبکہ برنٹ کروڈ آئل کی قیمت میں بھی وقتی کمی ریکارڈ کی گئی۔








