ایران کے نئے سیکیورٹی سربراہ محمد باقر ذوالقدر کون ہیں، علی لاریجانی کے بعد ذمہ داری کیوں سونپی گئی؟
ایران کے نئے سیکیورٹی سربراہ: محمد باقر ذوالقدر
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے نئے سیکیورٹی سربراہ محمد باقر ذوالقدر کون ہیں اور انہیں علی لاریجانی کے بعد ذمہ داری کیوں سونپی گئی؟
یہ بھی پڑھیں: سندھ میں 27 ارب روپے کے سولر انرجی پراجیکٹ میں اربوں روپے کی بے قاعدگیوں کا انکشاف
ذوالقدر کی تقرری
تفصیلات کے مطابق ایران نے علی لاریجانی کے بعد محمد باقر ذوالقدر کو سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل (SNSC) کا نیا سربراہ مقرر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اعزازیہ پروگرام برائے امام مسجد صاحبان کیلیے خصوصی ڈیسک قائم، صرف 10 روز میں کتنی رقم تقسیم کر دی گئی؟ جانیے
سابق سربراہ کا کردار
سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سابق سربراہ علی لاریجانی گزشتہ ہفتے فضائی حملے میں شہید ہو گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں ڈھیروں سرکاری ملازمین کو گرفتار کر لیا گیا
ذوالقدر کا پس منظر
عرب میڈیا کے مطابق ذوالقدر سابق ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) کے کمانڈر اور 2023ء سے مشاورتی ادارہ کونسل کے سیکریٹری ہیں۔ وہ ایران-عراق جنگ میں بھی حصہ لے چکے ہیں اور طویل عرصے تک IRGC کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت میں 7800روپے کا بڑا اضافہ
چیلنجز اور امتحانات
’’الجزیرہ‘‘ کے مطابق ذوالقدر کی تقرری کی وجہ محض حالیہ جنگ نہیں بلکہ ایک طویل غور و فکر کے بعد کی گئی ہے تاکہ ایسے شخص کو منتخب کیا جا سکے جو داخلی اور خارجی سیکیورٹی چیلنجز سنبھال سکے۔ ملک میں جاری فضائی حملے اور داخلی احتجاج ذوالقدر کے لیے فوری امتحان ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیرف جنگ: آن لائن کاروبار کرنے والے مشکل میں، ’آرڈر کینسل ہو جائیں گے‘
عالمی اثرات
ایران کی جانب سے میزائل حملے اور ہرمز کی تنگی کے ذریعے دباؤ جاری ہے جس سے عالمی معیشت پر اثر پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ
مذاکرات میں کردار
امریکی مذاکرات میں بھی ذوالقدر کا کردار اہم ہوگا کیونکہ کسی بھی معاہدے کی منظوری کے لیے ان کی رضامندی ضروری ہوگی۔
قومی سیکیورٹی میں اضافہ
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ ایران کی قیادت اس وقت قومی سیکیورٹی میں مزید عسکری قوت شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور ذوالقدر اس حساس ذمہ داری کو سنبھالنے کے لیے منتخب کیے گئے ہیں۔








