پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہیں، ملائیشین وزیراعظم
وزیر اعظم ملائیشیا کا پاکستان کی پیشکش کا خیر مقدم
کوالا لمپور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے بروقت اور تعمیری اقدام قرار دیا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سمیت دیگر دوست ممالک کی قیادت کو سراہا جنہوں نے ایک نازک مرحلے پر سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کی، اور اس ضمن میں عمان کی قیادت کی سابقہ کوششوں کو بھی قابل تحسین قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: انٹر اسکول فٹ بال چیمپئن شپ کا شاندار آغاز، مقصد اسکول سطح پر فٹ بال کو فروغ دینا ہے: صدر ڈی ایف اے ضیاء ڈوگر
پاکستان کی سفارتی صلاحیت
اپنے ویڈیو پیغام میں انور ابراہیم نے کہا کہ پاکستان کے متعلقہ فریقین کے ساتھ تعلقات اور مسلم دنیا میں اس کا مؤثر مقام اسے اس قابل بناتا ہے کہ وہ بامعنی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملائیشیا اس اقدام کی مکمل حمایت کرتا ہے اور خاص طور پر امریکہ اور ایران پر زور دیتا ہے کہ وہ اس پیشکش کو سنجیدگی سے لیں اور مثبت انداز میں آگے بڑھیں۔
یہ بھی پڑھیں: فضل الرحمن کا مدارس بل پر حکومت سے مذاکرات سے صاف انکار
مذاکرات کے امکانات
انہوں نے کہا کہ اگرچہ موجودہ صورتحال میں سفارتکاری کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں، تاہم کچھ ایسے اشارے موجود ہیں جن سے امید پیدا ہوتی ہے کہ مذاکرات کی گنجائش اب بھی باقی ہے، اور اس موقع کو پوری سنجیدگی کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی مذاکراتی عمل کی بنیاد خلوص نیت پر ہونی چاہیے، جس کا مقصد تنازع کا مستقل حل ہو، نہ کہ وقتی جنگ بندی کے ذریعے محض وقتی فائدہ حاصل کرنا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ماضی میں کئی جنگ بندیاں محض وقفہ ثابت ہوئی ہیں، جبکہ خطے کو ایک پائیدار اور دیرپا امن کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کرکٹ ٹیم نے ٹی ٹوئنٹی میں منفرد اعزاز اپنے نام کرلیا
ایران کی خودمختاری کا دفاع
ملائیشین وزیراعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کو بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی خودمختاری کے دفاع کا حق حاصل ہے، خاص طور پر Israel کی جانب سے ایران اور لبنان میں جاری حملوں کے تناظر میں۔ تاہم انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ انتہائی ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ عام شہری اور ہمسایہ ممالک، بالخصوص خلیجی ریاستیں، اس تنازع کا حصہ نہ بنیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیرہ اسماعیل خان میں دل دہلا دینے والا واقعہ، ماں نے اپنے 2 معصوم بچوں کو قتل کر دیا
معاشی اور سماجی خطرات
انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، پورا خطہ اور دنیا اس تنازع سے معاشی، سماجی اور استحکام کے حوالے سے شدید خطرات سے دوچار ہیں، اس لیے وہاں کے عوام کو ان فیصلوں کا خمیازہ نہیں بھگتنا چاہیے جو کہیں اور کیے جا رہے ہیں۔ انور ابراہیم نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ بعض عالمی طاقتیں بین الاقوامی قوانین کو یکساں طور پر لاگو نہیں کرتیں، بلکہ اسے منتخب انداز میں استعمال کیا جاتا ہے، جس سے اس نظام کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
بین الاقوامی تعاون کی کوششیں
انہوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں وہ خلیج تعاون کونسل، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، جاپان اور پاکستان سمیت مختلف ممالک کے رہنماؤں سے رابطے میں رہے ہیں تاکہ صورتحال کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے اور کشیدگی میں کمی کے لیے کوششیں کی جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملائیشیا ایک منصفانہ اور دیرپا امن کے قیام کے لیے ہر قابل اعتماد سفارتی کوشش کی حمایت جاری رکھے گا۔








