دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے، بلومبرگ
دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ پر مالی دباؤ
دبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے چوتھے ہفتے میں داخل ہونے کے ساتھ ہی دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے، جہاں دو بڑے پراپرٹی ڈویلپرز کے اسلامی بانڈز، یعنی صکوک، شدید خطرے کے زمرے میں داخل ہو گئے ہیں۔ سرمایہ کاروں میں کریڈٹ کوالٹی اور ری فنانسنگ کے حوالے سے خدشات تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جس کے باعث ان بانڈز کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایمل ولی خان نے دہشتگردوں کی حمایت کرنیوالوں کے حوالے سے بڑا مطالبہ کر دیا
صکوک کی صورتحال
بلومبرگ کے اعداد و شمار کے مطابق ڈالر میں جاری کیے گئے چھ صکوک اس وقت ایسے درجے پر پہنچ چکے ہیں جہاں ان کا ییلڈ اسپریڈ رسک فری ریٹ سے 1000 بیسس پوائنٹس سے بھی زیادہ ہو گیا ہے، جو کسی بھی بانڈ کے لیے انتہائی خطرناک سطح سمجھی جاتی ہے۔ یہ صکوک مشرقِ وسطیٰ میں ڈالر میں جاری رئیل اسٹیٹ بانڈز کا تقریباً 15 فیصد بنتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے صدر اور وزیراعظم سمیت سیاسی قیادت کو عشائیہ دیا گیا
پراپرٹی ڈویلپرز کی صورتحال
یہ شریعت کے مطابق بانڈز دبئی کی کمپنیوں بنگھاٹی ہولڈنگ اور اومنیات ہولڈنگ سے منسلک اداروں نے جاری کیے ہیں، جن میں بنگھاٹی کا 2027 میں میچور ہونے والا بانڈ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ بنگھاٹی بنیادی طور پر مڈ مارکیٹ ہاؤسنگ میں کام کرتی ہے، تاہم حالیہ عرصے میں اس نے لگژری منصوبوں کی طرف بھی قدم بڑھایا ہے، جن میں مرسڈیز برانڈڈ ٹاور اور دنیا کی بلند ترین رہائشی عمارتوں میں سے ایک بنانے کے منصوبے شامل ہیں، جبکہ اومنیات کا فوکس انتہائی لگژری منصوبوں پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے 8 سال بعد ہاکی ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرلیا
متاثرہ بانڈز اور ان کی درجہ بندی
صرف یہی نہیں بلکہ وہ بانڈز بھی شدید دباؤ میں ہیں جو ابھی تک مکمل طور پر خطرے کے زمرے میں شامل نہیں ہوئے۔ مثال کے طور پر سبحہ ریئلٹی کے 2030 کے بانڈ کا رسک پریمیم 300 بیسس پوائنٹس سے بڑھ کر 800 بیسس پوائنٹس تک پہنچ چکا ہے، جبکہ ارادا ڈیولپمنٹس کے ایک بانڈ کا اسپریڈ دوگنا ہو کر 728 بیسس پوائنٹس تک جا پہنچا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ گل پلازہ پر اداکارہ ہانیہ عامر کا ردعمل بھی آگیا
سیکشن کی درجہ بندی اور اثرات
ان چاروں کمپنیوں کے قرضوں کو بڑی ریٹنگ ایجنسیوں نے پہلے ہی نان انویسٹمنٹ گریڈ یعنی کمزور درجہ بندی میں رکھا ہوا ہے، جس کی وجہ سے موجودہ حالات میں ان پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ اگرچہ بہتر درجہ بندی والی کمپنیوں کے بانڈز بھی متاثر ہوئے ہیں، تاہم ان کے نقصانات نسبتاً محدود رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں ڈیجیٹل ڈاکوؤں کی انٹری، جیمرز استعمال کرکے متعدد وارداتوں کا انکشاف، پولیس سراغ نہ لگا سکی
مارکیٹ کی موجودہ صورتحال
رئیل اسٹیٹ کا شعبہ جو کچھ عرصہ قبل تک انتہائی تیزی سے ترقی کر رہا تھا، اب اچانک مندی کا شکار ہو گیا ہے۔ فروری کے آخر تک سب سے زیادہ متاثرہ بانڈ بھی خطرے کی حد سے کافی نیچے تھا، مگر جنگ شروع ہونے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی پرائمری بانڈ مارکیٹ تقریباً بند ہو چکی ہے، جس سے کمپنیوں کے لیے نئے قرض حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے اور کمزور مالی حیثیت رکھنے والی کمپنیوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے اضافہ کردیا گیا
ماہرین کے خیالات
ماہرین کے مطابق دبئی کی رئیل اسٹیٹ کمپنیاں اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں، جبکہ ہیج فنڈز کی جانب سے شارٹ سیلنگ نے بھی مارکیٹ میں فروخت کے دباؤ کو بڑھایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان میں شدید بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں 3 سیاح جاں بحق
کمپنیوں کی طرف سے وضاحتیں
دوسری جانب متاثرہ کمپنیوں نے اپنی پوزیشن مستحکم قرار دی ہے۔ بنگھاٹی کے مطابق اس کے تمام تعمیراتی منصوبے معمول کے مطابق جاری ہیں، منسوخی کی شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے اور مارچ میں فروخت کی رفتار بحران سے پہلے جیسی سطح پر برقرار ہے۔ اومنیات نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ کمپنی مالی طور پر مستحکم ہے اور اس کے پاس آئندہ چار سال کے لیے آمدن کی واضح صورتحال موجود ہے، جبکہ ارادا کا کہنا ہے کہ اس نے آئندہ 18 ماہ کے لیے اپنی مالی پوزیشن کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ترجمان پاک فوج نے ذہنی مریض بانی پی ٹی آئی کا ملک دشمن ایجنڈا بے نقاب کر دیا: عظمیٰ بخاری
ریٹنگ ایجنسیوں کی رائے
فچ ریٹنگز نے بنگھاٹی اور اومنیات کو ممکنہ ڈاؤن گریڈ کے لیے واچ لسٹ میں ڈال دیا ہے، جس کی وجہ جغرافیائی سیاسی خطرات، طلب میں کمی اور تعمیراتی لاگت میں اضافے کا خدشہ بتایا گیا ہے، تاہم ادارے کے مطابق دونوں کمپنیوں کی بیلنس شیٹس اب بھی مضبوط ہیں۔ موڈی’s نے بھی حال ہی میں بنگھاٹی کی ریٹنگ برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی کے پاس آئندہ ایک سال کے لیے مناسب لیکویڈیٹی موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: سی سی ڈی سے مبینہ مقابلہ، زیر حراست 2 ملزمان ہلاک
مستقبل کی پیشگوئیاں
جنگ سے قبل یو اے ای کی پراپرٹی کمپنیاں بڑے پیمانے پر قرض لے رہی تھیں تاکہ دبئی اور ابوظہبی میں رہائشی منصوبوں کے لیے زمین حاصل کی جا سکے۔ 2025 میں یو اے ای میں رئیل اسٹیٹ بانڈز کا اجرا تقریباً 7 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، جو 2024 کے مقابلے میں دگنا تھا، اور اب 2030 تک تقریباً 8 ارب ڈالر کے قرضے واجب الادا ہیں۔
سرمایہ کاروں کی توقعات
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں کچھ سرمایہ کار مواقع کی تلاش میں ہیں، تاہم زیادہ تر مارکیٹ میں واضح صورتحال سامنے آنے کا انتظار کر رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر یقینی صورتحال ابھی برقرار رہے گی۔








