ایران نے امریکی تجاویز ملنے کی تصدیق کردی
پاکستان نے ایران کو سفارتی تجویز فراہم کی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان نے امریکا کی جانب سے ایران کو ایک سفارتی تجویز پہنچا دی ہے، جبکہ خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ممکنہ مذاکرات کے انعقاد کے لیے پاکستان یا ترکی کو بطور مقام زیر غور لایا جا رہا ہے۔ یہ بات ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 5ہزار 500روپے کی کمی
ایران کو تجویز کی تفصیلات
ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ تہران کو پاکستان کے ذریعے واشنگٹن کی جانب سے ایک تجویز موصول ہوئی ہے، تاہم اس تجویز کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ آیا یہ وہی 15 نکاتی فریم ورک ہے جس کا ذکر اس سے قبل مختلف عالمی میڈیا رپورٹس میں کیا جا چکا ہے یا اس سے مختلف کوئی نیا منصوبہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی رہائی تک چین سے نہیں بیٹھوں گا: اعظم سواتی
ایران کا مذاکرات نہ کرنے کا مؤقف
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کی جانب سے سرکاری سطح پر مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ فی الحال کسی قسم کے مذاکرات جاری نہیں ہیں اور نہ ہی وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ کوئی معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس کے باوجود پس پردہ سفارتی سرگرمیوں کی یہ جھلک اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران کسی نہ کسی حد تک سفارتی راستے پر غور کر رہا ہے۔
ترکی کی شمولیت کا امکان
ایرانی ذریعے کے مطابق ترکی نے بھی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں کردار ادا کیا ہے اور ممکنہ مذاکرات کے انعقاد کے لیے ترکی یا پاکستان دونوں کو قابلِ غور سمجھا جا رہا ہے۔ اگر یہ مذاکرات ہوتے ہیں تو یہ خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال کو کم کرنے کی ایک اہم کوشش ہو سکتی ہے۔








