ٹرمپ کی جانب سے اچانک جنگ بندی کا خدشہ، نیتن یاہو نے 48 گھنٹوں میں ایران کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کا حکم دے دیا۔
نیتن یاہو کا ایران کے خلاف فیصلہ
تل ابیب (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایران کے خلاف حملوں میں شدت لانے کا فیصلہ کر لیا ہے، کیونکہ اسرائیلی قیادت کو خدشہ ہے کہ جنگ بندی کا اعلان کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔ امریکی اخبا ر نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران ایران کی اسلحہ سازی کی صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قومی کرکٹر شان مسعود کے چچا، سابق سیکریٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود خان انتقال کر گئے
جنگ بندی کا خدشہ
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے لیے ایک ماہ کی جنگ بندی کا اعلان کر سکتے ہیں۔ اسی خدشے کے پیش نظر اسرائیل اپنی فوجی کارروائیوں کو تیز کر رہا ہے تاکہ ممکنہ سفارتی عمل سے پہلے اپنے عسکری اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: جے شاہ کی محسن نقوی کو پاک بھارت میچ دیکھنے کی دعوت
اسرائیل کے جنگی مقاصد
اسرائیلی حکام کے مطابق اب تک اسرائیل اپنے بنیادی جنگی مقاصد حاصل نہیں کر سکا، جن میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو ختم کرنا، اسے جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا، اور ایسے حالات پیدا کرنا شامل ہیں جن میں ایرانی عوام اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: سفیر پاکستان شفقت علی خان کا وسٹا میری ٹائم ٹریول اینڈ ٹورزم کی جانب سے قائم کردہ رمضان افطار ٹینٹ کا دورہ
امریکہ کی تجویز کا اثر
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے یہ ہدایات اُس وقت جاری کیں جب اسرائیل کو امریکہ کی جانب سے ایران کے لیے 15 نکاتی تجویز موصول ہوئی۔ اس سے قبل اسرائیلی فضائیہ اور انٹیلی جنس کے اعلیٰ حکام نے وزیراعظم کو ممکنہ اہداف کے حوالے سے بریفنگ دی تھی، جنہیں اب بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
اسرائیل کی حکمت عملی میں تیزی
اسرائیلی حکومت کے اندر جلدی اور سخت اقدامات کا یہ رجحان اس خدشے کو ظاہر کرتا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے اچانک امن مذاکرات کا اعلان ہو گیا تو اسرائیل کو اپنے مقاصد ادھورے چھوڑنے پڑ سکتے ہیں۔








