وفاق کو ترقیاتی بجٹ سے پیسے کاٹنے نہیں چاہیے تھے،مزمل اسلم
پشاور: وزارت خزانہ کے مشیر کا بیان
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) مشیر خزانہ خیبرپختونخوا حکومت مزمل اسلم نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اطلاع ملی ہے کہ 100 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں سے 6.5 ارب روپے سابق فاٹا (خیبر پختونخواہ) پر کٹوتی کی گئی ہے۔ پہلے 9 ماہ میں 16 ارب روپے کی وصولی ہوئی ہے اور اب ایک نئی خبر سامنے آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سپر لیگ 11 کے کمنٹری پینل کا اعلان کر دیا گیا
ترقیاتی بجٹ کی کٹوتی پر تبصرہ
مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ جنگ کی وجہ سے حالات کشیدہ ہیں۔ ابتدائی طور پر ترقیاتی بجٹ سے کٹوتی نہیں ہونی چاہیے تھی کیونکہ وہ پہلے ہی تاریخ کی کم ترین سطح پر ہیں۔ اگر کوئی مجبوری تھی تو وزیراعظم ایم این اے کے فنڈ کی کٹوتی کر لیتے یا دو بڑے صوبوں سے تعاون کی درخواست کر لیتے۔
یہ بھی پڑھیں: ایجی ٹیشن کی سیاست کا کبھی قائل نہ تھا، قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حمایت اور مخالفت کی جانی چاہیے، اور وہ ہاتھا پائی پر آگئے۔
ضم شدہ علاقوں کے مسائل
انہوں نے کہا کہ ضم شدہ علاقوں کے پیسے کاٹنے سے وہاں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھے گی، کیونکہ وہاں پر دہشت گردی کا سامنا ہے۔ اس صورتحال میں اخراجات بڑھانے کی ضرورت ہے، نہ کہ کٹوتی کرنے کی۔
خیبرپختونخوا حکومت کی مالی صورتحال
مزمل اسلم نے مزید کہا کہ صرف خیبرپختونخوا کی حکومت ہی اپنے بجٹ سے رقم خرچ کر رہی ہے۔ اس سال حکومت کی رقم بروقت نہ ملنے کی وجہ سے خیبرپختونخوا حکومت نے 31 ارب کی برج فنانسنگ کی ہے۔ ہم وفاقی حکومت سے اس فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کریں گے۔








