25 ارب روپے ٹرانزیکشنز کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ نے اداکار حمزہ عباسی کی ٹک ٹاکر بہن کو بڑا ریلیف دیدیا
اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹک ٹاکر اور اداکار حمزہ علی عباسی کی بہن ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے خلاف 25 ارب روپے کی مشکوک ٹرانزیکشنز اور منی لانڈرنگ کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے ایک مقدمہ کالعدم قرار دے دیا، جبکہ دیگر تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلاول بھٹو زرداری آج مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کریں گے
بینک اکاؤنٹس میں غیر معمولی ٹرن اوور
عدالت میں پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے 22 بینک اکاؤنٹس میں 25 ارب روپے کے ٹرن اوور کا انکشاف ہوا تھا، جبکہ ان کی ظاہر کردہ سالانہ آمدن صرف 4 سے 6 لاکھ روپے بتائی گئی۔ مقدمے میں یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر رقوم امریکا اور متحدہ عرب امارات (دبئی) منتقل کیں۔
یہ بھی پڑھیں: سال 2026 کا پہلا سپر مون کل نظر آئے گا
عدالتی فیصلے کی تفصیلات
جسٹس خادم حسین سومرو نے تینوں کیسز پر تحریری فیصلے جاری کیے۔ عدالت نے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے خلاف درخواست کو نمٹا دیا جبکہ 25 ارب روپے کی ٹرانزیکشنز اور منی لانڈرنگ کیس خارج کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ تیسرے کیس میں اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت کارروائی کو غیر قانونی قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بنوں میں آپریشن کے بعد چند علاقوں میں کرفیو
ایف آئی اے کی تحقیقات
عدالت نے قرار دیا کہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے کیس میں طے شدہ قانونی طریقہ کار پر مکمل عمل نہیں کیا اور بعض مقامات پر اختیارات سے تجاوز کیا۔ تاہم عدالت نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ قانون کے مطابق شفاف تحقیقات جاری رکھے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلامی نظریاتی کونسل نے 18 سال سے کم عمر شادی کی ممانعت کا بل مسترد کردیا
منی لانڈرنگ کے شواہد
عدالت کے مطابق حوالہ ہنڈی اور مشکوک ٹرانزیکشنز کے بظاہر شواہد موجود ہیں۔ فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کے تحت تحقیقات جاری رہیں گی۔ دورانِ تفتیش فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) حکام کے ممکنہ کردار کا بھی تعین کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: شیخ رشید کی عمرہ روانگی سے متعلق کیس کا فیصلہ دلائل مکمل ہونے پر محفوظ
اکاؤنٹس کی بحالی کا اختیار
اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ تحقیقاتی ادارہ ضرورت پڑنے پر اکاؤنٹس ڈی فریز کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ اگر الزامات ثابت نہ ہوئے تو اکاؤنٹس فوری طور پر بحال (ڈی فریز) کیے جائیں گے۔
اہم قانونی پیش رفت
یہ فیصلہ ایک اہم قانونی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں عدالت نے ایک جانب تحقیقاتی عمل میں خامیوں کی نشاندہی کی، جبکہ دوسری جانب مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کی مزید شفاف تحقیقات جاری رکھنے پر زور دیا۔








