ایران نے امریکہ کی 15 نکاتی جنگ بندی تجویز کا جواب بھیج دیا
ایران کا امریکا کی جنگ بندی تجویز کا جواب
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران نے امریکا کی 15 نکاتی جنگ بندی تجویز کا جواب دے دیا ہے، جس میں حملے بند کرنے، نقصانات کی تلافی اور تمام محاذوں پر امن قائم رکھنے پر زور دیا گیا۔ ایران نے آبنائے ہرمز پر حاکمیت کے حق کو اجاگر کیا اور امریکی مذاکرات کے دعووں کو فریب قرار دیا، جب کہ عالمی برادری کو واضح کیا کہ وہ اپنے شہری اور علاقائی مفادات کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئین کے مطابق سہیل آفریدی قیدی نمبر 420 سے کابینہ تشکیل کے لیے صلاح مشورے کرنے کی اجازت نہیں مانگ سکتے، فیاض الحسن چوہان
ایران کا باضابطہ جواب
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم کو ایک باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ ایران نے بدھ کی شب امریکا کی جانب سے پیش کی گئی 15 نکاتی تجویز کا باقاعدہ جواب بھیج دیا ہے، تہران اب امریکی ردعمل کا انتظار کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سنبھل کی مسجد کے نیچے مندر کا دعویٰ: کیا یہ ہماری 500 سال پرانی جامع مسجد پر قبضہ کرنے کی کوشش ہے؟
ایران کے شرائط کا مطالبہ
ذرائع کے مطابق ایران نے اپنے جواب میں واضح کیا ہے کہ دشمن کے حملوں اور قتل و غارت کے اقدامات فوری طور پر بند کیے جائیں، جنگ دوبارہ نہ شروع ہونے کے لیے ٹھوس اور قابل عمل شرائط طے کی جائیں اور جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کی تلافی اور معاوضے کی ضمانت دی جائے۔ ایران نے زور دیا کہ جنگ کے خاتمے کے عمل کو تمام محاذوں اور تمام مزاحمتی گروپوں پر یکساں طور پر نافذ کیا جائے تاکہ خطے میں مستقل امن قائم ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے مختلف شہروں میں 5 روز سے انٹرنیٹ سروس متاثر
آبنائے ہرمز پر حاکمیت
ذرائع نے بتایا کہ ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی قانونی اور فطری حاکمیت کے حق کو برقرار رکھنے پر بھی زور دیا ہے اور کہا کہ یہ حق تسلیم کرنا لازمی ہے تاکہ دوسری پارٹی اپنی ذمہ داریوں کی پابندی کرے۔ ایران کے مطابق یہ شرائط جنیوا میں حالیہ جوہری مذاکرات کے دوران طے شدہ مطالبات سے مختلف اور آزاد ہیں۔
امریکی دعووں پر تنقید
مزید برآں، ذرائع نے خبردار کیا کہ ایران کے نزدیک امریکی دعوے مبنی بر مذاکرات درحقیقت ایک تیسرا فریب ہیں، جس کے ذریعے امریکا کئی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔








