کئی محاذوں کی وجہ سے فوج ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتی ہے، اسرائیلی فوجی سربراہ
اسرائیلی فوج کا انتباہ
تل ابیب (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر نے حکومت کو ایک سنگین انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسلسل جنگی دباؤ اور افرادی قوت کی کمی کے باعث فوج داخلی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتی ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سیاین این کے مطابق ایک اسرائیلی ذریعے نے بتایا کہ زمیر نے کابینہ اجلاس میں کہا کہ وہ “دس سرخ جھنڈے” لہرا رہے ہیں، اس سے پہلے کہ فوج خود اپنے بوجھ تلے دب جائے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز مری سے واپسی پر فیلڈ ہسپتال دیکھ کر رک گئیں،ادویات کی مفت فراہمی اور ورکنگ کے بارے میں تفصیلات حاصل کیں۔
متعدد محاذوں پر فوجی کارروائیاں
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی فوج بیک وقت کئی محاذوں پر سرگرم ہے، جن میں ایران، لبنان، غزہ، شام اور مقبوضہ مغربی کنارہ شامل ہیں۔ ان وسیع فوجی کارروائیوں نے اسرائیلی فوج پر غیر معمولی دباؤ ڈال دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کی وی لاگر سماہیہ حجاب کو شادی کی پیشکش مسترد کرنے پر نوجوان لڑکے کی اغواء کی کوشش، ویڈیو وائرل
بھرتی بحران اور فوج کی کمی
غزہ جنگ کے دوران خود اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا تھا کہ اسے تقریباً 12 ہزار اضافی فوجیوں کی کمی کا سامنا ہے۔ یہ کمی ایک بڑے بھرتی بحران کا حصہ ہے، کیونکہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت اب تک الٹرا آرتھوڈوکس یہودی نوجوانوں کی لازمی فوجی بھرتی سے متعلق قانون سازی کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ لازمی سروس کی مدت بڑھانے یا ریزرو سسٹم میں اصلاحات کے حوالے سے بھی کوئی واضح پیش رفت نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی پاکستان میں فلسطین کے سفیر ڈاکٹر ذہیر زید سے ملاقات
علاقائی تشدد اور فوجی تعیناتیاں
زمیر نے یہ بات بھی اجاگر کی کہ حالیہ ہفتوں میں مغربی کنارے میں قوم پرستانہ جرائم اور آبادکاروں کے تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس پر ریاستی اداروں کو فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔ اسی تناظر میں اطلاعات ہیں کہ اسرائیلی فوج نے لبنان کی سرحد سے ایک جنگی بٹالین ہٹا کر مغربی کنارے میں تعینات کر دی ہے تاکہ بڑھتے ہوئے تشدد کو کنٹرول کیا جا سکے۔
چیلنجز اور عسکری حکمت عملی
یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایک طرف اسرائیل بیک وقت کئی محاذوں پر مصروف ہے، تو دوسری طرف اندرونی سطح پر اسے افرادی قوت، پالیسی سازی اور سکیورٹی چیلنجز کا بھی سامنا ہے، جو آنے والے دنوں میں اس کی عسکری حکمت عملی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔








