ملک میں کھاد کا وافر سٹاک موجود ہے، رانا تنویر
حکومت کی کھاد کی درآمد کی کوششیں
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ حکومت عالمی کھاد منڈی کی صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے اور ڈی اے پی کی بروقت درآمد کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سول نافرمانی تب شروع ہوگی جب کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا، شیر افضل مروت
خریف 2026 کے لیے کھاد کی دستیابی
خریف 2026 کے لیے کھاد کی مناسب مقدار اور وافر سٹاک موجود ہے۔ کسانوں کو مناسب قیمتوں پر کھاد کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے۔ کھاد کی ترسیل اور تقسیم کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہائیر کا ایشیا کپ 2025 میں بطور گولڈ اسپانسر اسپورٹس-و-ٹینمنٹ کو مزید مستحکم کرنا
کھاد جائزہ کمیٹی کا اجلاس
روزنامہ دنیا کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے کھاد جائزہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر کو بتایا گیا کہ ملک میں یوریا کی سالانہ طلب 6.5 تا 7.0 ملین ٹن جبکہ ڈی اے پی کی طلب 1.2 تا 1.5 ملین ٹن کے درمیان رہتی ہے، جس کا بڑا حصہ مقامی پیداوار سے پورا کیا جاتا ہے۔
یوریا اور ڈی اے پی کی دستیابی
وفاقی وزیر نے اطمینان کا اظہار کیا کہ یوریا اور ڈی اے پی دونوں کی مناسب مقدار دستیاب ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کھاد مناسب قیمتوں پر کسانوں کو دستیاب ہونی چاہیے۔








