جنگ اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باوجود ایران کی تیل سے یومیہ آمدن کتنے ملین ڈالرز تک پہنچ گئی۔۔؟ جان کر آپ حیران رہ جائیں
ایران کی تیل کی یومیہ آمدن
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) جنگ اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باوجود ایران کی تیل سے یومیہ آمدن کتنے ملین ڈالرز تک پہنچ گئی؟ جان کر آپ حیران رہ جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: اعظم سواتی بیرون ملک جا سکتے، نام کسی سٹاپ لسٹ میں نہیں، ایف آئی اے کی یقین دہانی
تیل کی برآمدات میں اضافہ
تفصیلات کے مطابق ایران نے جاری جنگ اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باوجود تیل کی برآمدات سے یومیہ تقریباً 139 ملین ڈالرز تک آمدن حاصل کی ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران نہ صرف تیل کی فروخت سے آمدن بڑھا رہا ہے بلکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بعض تجارتی جہازوں سے 20 لاکھ ڈالرز تک کی ٹرانزٹ فیس بھی وصول کر رہا ہے۔ جنگ کے آغاز کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے ایران کو دوہرا فائدہ پہنچایا ہے۔ ایرانی خام تیل، بالخصوص ایرانی لائٹ، زیادہ تر چین کو نسبتاً کم رعایت پر فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ کی قیمت 100 ڈالرز فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور عمان کے فیلڈ ہاکی کے کھلاڑیوں، کوچز اور عہدیداران کے اعزاز میں افطار، سینئر عہدیداران کی بھی شرکت
برآمدات کی سطح برقرار
اندازوں کے مطابق ایران کی تیل برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح یعنی تقریباً 1.6 ملین بیرل یومیہ کے قریب برقرار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کو خریدنے کے لئے ہر حد تک جائیں گے: علی امین گنڈاپور
تیل کی ترسیل میں جاری سرگرمیاں
’’جنگ‘‘ کے مطابق ایرانی آئل ٹینکرز خارگ جزیرے سے لوڈ ہو کر خلیج فارس کے راستے آبنائے ہرمز سے گزر رہے ہیں، اور حالیہ دنوں میں اس سرگرمی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ صورتِ حال دیگر خلیجی ممالک کے برعکس ہے، جہاں جنگ کے باعث تیل کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے اور کئی مقامات پر عملی طور پر رکاوٹیں پیدا ہو چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت سے تعلق رکھنے والی ملعونہ خاتون سیاست دان نے قرآن پاک کی بے حرمتی کر دی
امریکہ اور اسرائیل کی فضائی مہمات
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملے جاری ہیں، تاہم تہران اپنی تیل برآمدات برقرار رکھ کر مالی استحکام قائم رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ واشنگٹن نے تیل کی قیمتوں پر جنگ کے اثرات کم کرنے کے لیے سمندر میں موجود ایرانی تیل کے ذخائر پر عائد پابندیوں کو عارضی طور پر نرم کیا، جس سے ایران کو مزید فائدہ پہنچا۔
یہ بھی پڑھیں: ظلمت کے اندھیروں میں روشن چراغ جلے۔۔۔
ماہرین کی رائے
ماہر ریچرڈ نیفیو نے اس صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت دینے پر مجبور ہے، حالانکہ عام طور پر امریکی ترجیح ایرانی تیل کی فروخت کو روکنا ہوتی ہے۔ مارچ کے دوران ایران کی آمدن میں اضافہ دیکھا گیا، جو فروری کے تقریباً 115 ملین ڈالرز یومیہ سے بڑھ کر 139 ملین ڈالرز یومیہ تک پہنچ گئی ہے۔
خلیجی ممالک کی مشکلات
دوسری جانب خلیجی ممالک جیسے متحدہ عرب امارات، عراق، اور سعودی عرب کو جنگ کے باعث پیداوار اور برآمدات میں نمایاں مشکلات کا سامنا ہے۔








