آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے امارات کثیرالقومی اتحاد کی کوشش کر رہا ہے، فنانشل ٹائمز
آبنائے ہرمز کی کشیدگی اور بین الاقوامی اتحاد
ابو ظہبی (ڈیلی پاکستان آن لائن) خلیج میں جاری کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک بڑے بین الاقوامی اقدام کی شکل بنتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں متحدہ عرب امارات نے اپنے اتحادیوں کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ ایک کثیرالقومی بحری اتحاد میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق ابوظہبی نہ صرف اس اتحاد کا حصہ بننا چاہتا ہے بلکہ اپنی بحریہ بھی تعینات کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں سے ایک میں جہاز رانی کو بحال کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی بیٹر شریاس ایئر ہسپتال سے ڈسچارج
خلیجی ممالک کی صورتحال
رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک اور مغربی طاقتیں اس وقت شدید دباؤ میں ہیں کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حملوں کے باعث آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیاں تقریباً ٹھپ ہو چکی ہیں۔ اندازہ ہے کہ جہازوں کی آمدورفت میں تقریباً 90 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے، جو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے، کیونکہ دنیا کے قریباً پانچویں حصے کا تیل اور گیس اسی راستے سے گزرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی کے احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی کے واقعے کا مقدمہ درج
ہارمز سیکیورٹی فورس کا قیام
ابوظہبی اس وقت ایک وسیع بین الاقوامی اتحاد کے قیام کے لیے سرگرم لابنگ کر رہا ہے، جس کا مقصد تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کرنا اور انہیں محفوظ راستہ دینا ہے۔ اس منصوبے کو غیر رسمی طور پر “ہارمز سیکیورٹی فورس” کا نام دیا جا رہا ہے۔ ایک ذریعے کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایران کے خلاف جنگ نہیں بلکہ عالمی معیشت کو لاحق خطرے کا مقابلہ کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے جنگ شروع کی تو صرف ایران تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ایک علاقائی جنگ ہوگی، خامنہ ای
اقوام متحدہ میں قرارداد
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات اس معاملے پر بحرین کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد بھی لانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اس مجوزہ فورس کو عالمی قانونی جواز فراہم کیا جا سکے۔ تاہم روس اور چین کی ممکنہ مخالفت اس منصوبے کے لیے رکاوٹ بن سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کینیڈا نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے 26 لاکھ ڈالر امداد کا اعلان کردیا
ایران کا اثر و رسوخ
خلیجی ممالک میں اس بات پر بھی تشویش پائی جاتی ہے کہ ایران جنگ کے بعد بھی آبنائے ہرمز پر اپنا دباؤ برقرار رکھ سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے بعض جہازوں کو اپنے نیم فوجی ادارے کے ذریعے اجازت لینے اور بعض صورتوں میں محفوظ گزر کے لیے ادائیگی کرنے پر مجبور کرنا شروع کر دیا ہے، جو اس کے اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اوورسیز کشمیر کانفرنس، آزاد کشیمر حکومت کا 16 فروری کو عام تعطیل کا اعلان
امریکی حکومت کی تشویش
امریکی حکومت بھی اس صورتحال کی سنگینی کو تسلیم کر چکی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق وہ اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کہ کس طرح تیل بردار جہازوں کو دوبارہ محفوظ طریقے سے اس گزرگاہ سے گزارا جا سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی ٹائم لائن سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج: مثبت رجحان، 617 پوائنٹس کا اضافہ
خلیجی ممالک کا متضاد رویہ
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس معاملے پر خلیجی ممالک کے اندر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔ جہاں متحدہ عرب امارات اور بحرین کھل کر اس اقدام کی حمایت کر رہے ہیں، وہیں دیگر ممالک محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ کچھ ریاستیں ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت سے ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کی توقع رکھتی ہیں، تو دوسری جانب انہیں خدشہ ہے کہ اگر امریکہ پیچھے ہٹ گیا تو خطے میں ایک زیادہ سخت گیر ایرانی پالیسی جنم لے سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دورۂ استنبول؛ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کی عالمی دفاعی نمائش میں شرکت، اہم ملاقاتیں
سفارتی کوششیں
اسی دوران دیگر سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ فرانس نے تقریباً 35 ممالک سے رابطہ کیا ہے تاکہ جنگ کے بعد ایک دفاعی مشن تشکیل دیا جا سکے، جس میں بارودی سرنگوں کی صفائی اور تجارتی جہازوں کی حفاظت شامل ہو۔ دوسری طرف عمان نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔
خلاصہ
مجموعی طور پر صورتحال اس جانب اشارہ کر رہی ہے کہ آبنائے ہرمز اب صرف ایک جغرافیائی گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان معاشی اور اسٹریٹجک کشمکش کا مرکز بن چکی ہے، جہاں ہر قدم آنے والے دنوں میں عالمی معیشت اور خطے کے امن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔








